خطبات محمود (جلد 27) — Page 670
*1946 670 خطبات محمود اب جماعت بھی بڑھ رہی ہے اور جماعت کے اموال بھی بڑھ رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی وفات سے پہلے جو جلسہ سالانہ ہوا اُس میں 6** سات سو آدمی شریک ہوئے اور اس وقت ہمارے جمعہ میں چار ہزار کے قریب آدمی بیٹھتے ہیں۔لیکن اُس سات سو کو دیکھ کر آپ کی طبیعت پر یہ اثر تھا کہ اب ہماری جماعت بہت بڑھ گئی ہے اور اب ہمارا کام ختم ہوتا نظر آرہا ہے کیونکہ جماعت خوب قائم ہو گئی ہے اور اب اتنا ہجوم ہے کہ ہم ان کے ساتھ سیر بھی نہیں کر سکتے۔لیکن اُس سالانہ جلسہ سے آج ہمارے اس جمعہ میں چھ گنا زیادہ آدمی بیٹھے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کے آخری سال جو جلسہ سالانہ ہوا اس میں اٹھارہ سو آدمی شریک ہوئے اور اسے بہت عظیم الشان جلسہ سمجھا گیا۔لیکن آج ہمارے جمعہ میں اُس جلسہ سالانہ سے اڑھائی گنے زیادہ آدمی بیٹھے ہیں۔پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جلسے ہمارے جمعے بنادیئے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے جلسے ہماری روزانہ نمازیں بن گئیں۔میں نے کئی دفعہ مسجد مبارک میں مغرب کے وقت حساب لگوایا ہے۔کئی دفعہ نمازیوں کی تعداد سات سو سے اوپر ہوتی ہے۔ان باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کس طرح عظیم الشان طور پر پوری ہو رہی ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو تعداد میں بھی ترقی دے رہا ہے اور اموال میں بھی ترقی دے رہا ہے۔پس یہ حصہ دن بدن پورا ہو رہا ہے لیکن دوسرا حصہ اس پیشگوئی کا سوچنے کے قابل ہے کہ کیا مالوں میں ترقی کے ساتھ جماعت کے افراد دیانت اور امانت پر قائم ہیں یا نہیں ؟ میں دیکھتا ہوں کہ جنگ کے دوران میں لوگوں کو بہت مال کمانے کا موقع ملا ہے اور اس کا کچھ اثر قادیان پر بھی پڑا ہے۔گو جماعت کی غلطی کی وجہ سے قادیان کے احمدیوں کا حصہ دوسرے لوگوں سے کم رہا ہے۔مگر ان کو بھی حصہ ملا ضرور ہے۔یہاں کارخانے کھل گئے ہیں، بعض بڑی بڑی دکانیں بن گئی ہیں۔اسی طرح بعض اور صنعتی اور تجارتی رنگ میں ترقیات ہوئی ہیں اور جنگ کے اس سات سال کے عرصہ میں پہلے کی نسبت بہت ترقیات ہو گئی ہیں۔لیکن افسوس ہے کہ جس بات کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں ہوشیار اور بیدار کر دیا تھا، وہ باتیں پید اہو رہی ہیں۔اور ان اموال کی وجہ سے لوگوں کی دیانتیں ویسی صاف نہیں رہیں