خطبات محمود (جلد 27) — Page 668
*1946 668 خطبات محمود جس بات میں شبہ تھا وہ یہ تھی کہ اس روپیہ کو استعمال کرنے والے اس کو دیانت سے استعمال کریں گے یا نہیں۔گو ظاہر بین نگاہیں اُس وقت اس بات کے پورا ہونے کی کوئی صورت نہ دیکھتی تھیں۔کیونکہ ساری دنیا میں تبلیغ کرنا اور ان کے لئے تعلیمی انتظامات کرنا، غرباء کی پرورش کرنا، سلسلہ کی تمام دوسری ضروریات کو پورا کرنا کوئی معمولی کام نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یقینی طور پر بتادیا گیا تھا کہ روپیہ آئے گا اور ضرور آئے گا۔لیکن ہو سکتا ہے کہ اس کے آنے کے وقت جماعت اپنی دیانت پر پورے طور پر قائم نہ رہ سکے۔روپے کے زیادہ آنے کی دو ہی صورتیں ہیں۔اول یہ کہ جماعت تعداد میں بڑھتی چلی جائے۔اس طرح اس کی وصیتیں اور چندے بڑھتے چلے جائیں۔دوم یہ کہ جماعت کا روپیہ بڑھے اور اس طرح پہلے لوگوں کا بھی چندہ ترقی کر جائے۔یہ دو ہی ذریعے جماعت کے مال کو بڑھانے کے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کی تعداد کو بھی دن بدن بڑھارہا ہے اور جماعت کے مالوں میں بھی ترقی دے رہا ہے۔لیکن ابھی ہماری مالی حالت دنیا کے مقابل پر بہت کمزور ہے۔دنیا میں ایسے مالدار لوگ بھی ہیں کہ ہمارا جتنا سالانہ چندہ ہوتا ہے۔وہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ دے دیں اور اُن کی جیب ذرا بھی ہلکی نہ ہو۔چنانچہ کئی لوگ ایسے ہیں جو پندرہ بیس کروڑ روپیہ سالانہ خرچ کر دیتے ہیں اور اُن کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ ہمارے مال میں کچھ کمی ہوئی ہے۔امریکہ کے ایک سخی آدمی کے متعلق مشہور ہے کہ اُس نے چار ارب روپیہ اپنی زندگی میں صدقہ و خیرات دیا لیکن یہ چار ارب روپیہ کوئی تکلیف برداشت کر کے اور بوجھ اٹھا کر نہیں دیا گیا بلکہ اس شخص کی ارب دو ارب کی سالانہ انکم تھی۔اگر ایسا آدمی اپنی آمد کا چوتھا حصہ بھی نکالے تو وہ پچاس کروڑ بنتا ہے اور پانچواں حصہ نکالے تو چالیس کروڑ بنتا ہے اور اگر چھٹا حصہ دے تو تینتیس کروڑ بنتا ہے اور اگر دسواں حصہ دے تو بھی بیس کروڑ سالانہ بنتا ہے۔اور اگر وہ ہیں سال دے تو چار ارب بن جاتا ہے۔ایسے شخص کے لئے ہیں کروڑ دینا کوئی بڑی بات نہیں۔غریب آدمیوں کے لئے دسواں حصہ دینا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اُن کی آمد کم ہوتی ہے اور خرچ زیادہ ہوتا ہے۔اور امیر آدمیوں کے لئے دسواں حصہ دینا کوئی مشکل نہیں ہوتا کیونکہ ان کی آمد زیادہ ہوتی ہے اور خرچ آمد کے مقابلہ میں کم ہوتا ہے۔ایسا شخص جس کی آمد ارب دو ارب روپیہ ہے اگر