خطبات محمود (جلد 27) — Page 667
*1946 667 خطبات محمود ہوتے تھے۔منشی رستم علی صاحب چونکہ پہلے ہی اپنے ضلع کے انچارج تھے اس لئے اُن کو کورٹ انسپکٹر بنا دیا گیا اور یکدم ان کی تنخواہ میں اسی نوے روپے کا اضافہ ہوا۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیمار تھے کہ منشی رستم علی صاحب کا خط آیا اور آپ نے مجھے پڑھنے کے لئے فرمایا۔اُس خط کے ساتھ ایک منی آرڈر بھی پہنچا۔منشی رستم علی صاحب نے اس خط میں لکھا تھا کہ میں انسپکٹر بنادیا گیا ہوں اور میری تنخواہ میں یکدم 90،80 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔آپ کی طرف سے سلسلہ کی ضرورتوں کے لئے چندہ کی تحریک ہوئی تھی اور واقع میں سلسلہ کی امداد اہم فریضہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے یکدم ترقی دی ہے تو وہ اسی لئے دی ہے کہ میں اس کی راہ میں زیادہ چندہ دے سکوں۔یہ یکدم ترقی میرے لئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کی خدمت کے لئے دی گئی ہے۔اس لئے میں اپنی پہلی تنخواہ پر بھی چندہ ادا کر تار ہوں گا اور یہ زائد ترقی ساری کی ساری سلسلہ کو دوں گا کیونکہ یہ میرے لئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے ہے۔مگر باوجود اس اخلاص کے پھر بھی یہ بات تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام میں لنگر کو چلانے کے لئے بعض دفعہ آپ کو قرض لینا پڑتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تحریک کرنی پڑتی تھی کہ دوست چندہ کی طرف توجہ کریں اور مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول کے لئے آٹھ دس ہزار روپیہ کی سالانہ ضرورت تھی۔اس لحاظ سے ساری پونجی جو سلسلہ کو سالانہ ملتی تھی 26 یا 27 ہزار کے قریب تھی اور یہ روپیہ بہت مشکل کے ساتھ جمع ہو تا تھا۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ میں فخر کے طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ سلسلہ کے ایک نشان کے طور پر بیان کرتا ہوں کہ اب اکثر میرا سالانہ چندہ ہی تھیں اور چالیس ہزار کے درمیان ہوتا ہے۔گویا اُس زمانے کے تمام اخراجات میرے موجو دہ چندوں سے پورے ہو سکتے تھے۔لیکن اُس وقت ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے جماعت کو بڑی بڑی قربانیاں کرنی پڑتی تھیں۔اور یہ چیزیں جو اب ہمیں نظر آ رہی ہیں اُس وقت کے حالات کو دیکھتے ہوئے بہت مشکل نظر آتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا اس کے ماتحت آپ کو اس بات میں شبہ نہ تھا کہ ان کاموں کے لئے روپیہ آئے گا یا نہیں بلکہ آپ کو