خطبات محمود (جلد 27) — Page 646
*1946 646 خطبات محمود بیماری نہ پیدا ہو۔آخر دیہات کے لوگوں کے مکانات کچے ہی ہوتے ہیں اور لاکھوں کروڑوں انسان ان میں رہتے ہیں اور دیہاتی لوگ سینکڑوں پشتوں سے کچے مکانات میں رہتے ہیں اور ان کو کبھی کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔پس مہمانوں کا ایسے مکانات میں دو چار دن گزارنا چنداں مشکل نہیں ہو سکتا۔ہم بیسیوں دفعہ باہر سیر کو جاتے ہیں تو ہمیں ایسے ہی مکانات میں ٹھہرنا پڑتا ہے مگر ہمیں ذرا بھی تکلیف نہیں ہوتی۔ہم ایک دفعہ کشمیر گئے۔رستے میں دریا آگیا۔وہاں ہمیں ٹھہر نا پڑا۔ہم نے چاروں طرف مکان تلاش کیا مگر کوئی اچھا مکان نہ مل سکا۔آخر ایک مکان کی چھت پر ایک نہایت چھوٹی سی جگہ ملی جو اسباب رکھنے والا طاقچہ تھا۔ہم چھت پر لکڑی کی سیڑھی لگا کر چڑھے تو دیکھا کہ اوپر کے کمرہ کی چھت کوئی دو سوا دو فٹ اونچی ہے۔مغرب وعشاء کی نماز کا وقت تھا۔میں نے لازما بیٹھ کر نماز پڑھی مگر لطف یہ تھا کہ بیٹھے ہوئے بھی میر اسر چھت سے ٹکراتا تھا اور مجھے کمر جھکا کر بیٹھنا پڑتا تھا۔پھر اس کے ایک طرف کچھ گھاس پھوس پڑا ہوا تھا۔مگر ہم نے جس طرح ہو سکا اُس میں گزارہ کیا۔آخر جلسہ کے لئے لوگ کیوں کچے مکانات میں گزارہ نہ کر سکیں گے۔ہم ایک اور دفعہ پہاڑ پر گئے اور ہمیں وہاں ایسی جگہ ملی کہ جہاں میں سویا تھا میرے سرہانے کی طرف کوئی دوسو کے قریب بکریاں تھیں اور کئی من مینگنی پڑی ہوئی تھی۔ہمارے ساتھ ایک نازک طبع دوست بھی تھے۔انہوں نے کہا مجھ سے تو یہاں نہیں رہا جاتا۔میں نے کہا اگر نہیں رہا جاتا تو باہر چلے جاؤ اور سرد ہوا کھاؤ ہم تو یہیں گزارہ کریں گے۔ہم نے اُسی جگہ رات گزاری۔اور سردی کے موسم میں ایسی جگہوں میں گزارہ کرنا ہی پڑتا ہے۔جب ایسی جگہ گزارہ ہو سکتا ہے تو کچے مکانات میں کیوں نہیں کیا جاسکتا۔پس قادیان والوں کو چاہئے کہ جس قدر جلد ہو سکے یہ کام سر انجام دیا جائے اور اگر دوست ہمت کریں تو ایک ایک دن میں ہیں ہیں مکان بن سکتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے دیواریں زیادہ اونچی بنانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔چھوٹی ہی بنائی جائیں چاہے چھ چھ فٹ اونچی ہوں۔عورتوں کا قد عموم أسوا پانچ یا زیادہ سے زیادہ ساڑھے پانچ فٹ ہوتا ہے اور مردوں کا چھ فٹ تک ہوتا ہے اور اگر کوئی اس سے بھی