خطبات محمود (جلد 27) — Page 635
*1946 635 خطبات محمود اس کے متعلق اطلاع ہوئی کہ تین آدمی باغ کو نقصان پہنچا رہے ہیں تو وہ جھٹ باغ میں پہنچا۔مگر جب اُس نے ان تینوں نوجوانوں کو دیکھا تو خیال کیا کہ اگر میں نے ان سے کچھ کہا تو باغ تو پہلے ہی اُجڑ چکا ہے یہ میری بھی ہڈی پسلی توڑ دیں گے۔اس لئے اُس نے ایک ترکیب سوچ کر جھٹ اپنا چہرہ بشاش بنالیا اور ان تینوں کے پاس پہنچ کر ہنستے ہوئے کہا آپ کے آنے سے بڑی خوشی ہوئی۔کھائیے اور حظ اٹھائیے یہ سب آپ ہی کا مال ہے۔ہم تو صرف آپ کے خادم ہیں اور اس سے بڑھ کر ہمارے لئے خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ جیسے بزرگ ہمارے ہاں قدم رنجہ فرمائیں۔اس پر وہ تینوں لڑکے نہایت خوش ہوئے۔جب زمیندار نے سمجھا کہ میرا جادو چل گیا ہے تو اُس نے سید کے لڑکے کو الگ لے جا کر کہا۔آپ تو سید ہیں اور ہمارے پیروں کی اولاد ہیں اس لئے ہمارا مال سب آپ ہی کا ہے۔پھر آپ آلِ رسول بھی ہیں۔اللہ اللہ ! آپ کی کیا شان ہے۔ہمارے پاس تو جو کچھ ہے وہ سب آپ کا ہے اور آپ کو بھلا ہمارے مال کے استعمال کے لئے اجازت طلب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔آپ جب چاہیں اور جو چیز چاہیں بڑی خوشی سے لے سکتے ہیں۔اس کے بعد زمیندار نے مولوی کے لڑکے کو الگ بلایا اور کہا آپ دین کی خدمت کرتے ہیں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم آپ کی خدمت کریں۔جب آپ دین کے ہر قسم کے معاملے میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں تو ہم بھلا ایسے ہو سکتے ہیں کہ آپ کی خدمت میں لیت و لعل کریں۔مگر اس تیسرے آدمی کا کیا حق تھا کہ اس طرح بغیر پوچھے میرے باغ میں سے پھل کھاتا؟ چونکہ زمیندار نے ان دونوں کی انتہائی تعریف کی تھی اس لئے اُن دونوں نے کہا۔آپ نے بات تو نہایت معقول کی ہے۔واقعی اس کا کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح آپ کے باغ میں داخل ہو تا۔زمیندار نے کہا۔اگر میری بات معقول ہے تو آپ آلِ رسول ہیں اور یہ مولوی صاحب کے فرزند ہیں میری دادرسی کیجئے۔اس پر اُن دونوں نے اور زمیندار نے مل کر اُس تیسرے کو درخت کے ساتھ باندھا اور خوب پیٹا۔ساتھ ہی زمیندار یہ بھی کہتا جاتا۔تمہارا کیا حق ہے کہ اس طرح میرے باغ میں بغیر پوچھے گھس جاؤ۔یہ تو آلِ رسول ہیں اور یہ مولوی صاحب کے بیٹے ہیں تم کون ہو ؟ اُن کا تو سب کچھ اپنا تھا اور یہ جب چاہیں باغ میں آسکتے ہیں مگر تمہارا کیا حق تھا کہ اس طرح باغ اجاڑتے۔زمیندار جب اچھی طرح اُس کو سزا دے چکا تو سید کے