خطبات محمود (جلد 27) — Page 629
* 1946 629 خطبات محمود خندق کھو دی تھی اور یہ پہلی جنگ تھی جس میں کئی دنوں تک فوجوں کو لڑنا پڑا تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے اسی جنگ کی طرف اشارہ کر کے یہ بتایا ہے کہ ابھی تمہاری حالت دفاع کرنے والی ہے۔ابھی حملہ کا وقت نہیں آیا۔پس پندرہ سو آدمیوں سے مراد غزوہ احزاب کا طریق کار ہے اور اس خواب سے میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کی مشکلات آہستہ آہستہ حل ہوں گی۔فوری طور پر حل نہیں ہو سکتیں۔ہاں جس طرح غزوہ احزاب آخری جنگ تھی اسی طرح اب ہندوستان کی آزادی کے لئے جو جد وجہد ہو گی وہ بھی آخری جد وجہد ہو گی۔اور اس کے بعد انگریزوں کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ اب آزادی دیئے بغیر چارہ نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس رویا میں یہ تسلی دلائی ہے کہ ہندوستان کو آزادی تو مل جائے گی لیکن کچھ دیر کے بعد ملے گی۔یہ تعبیر ہے جو آب میری سمجھ میں آئی ہے جو شخص اس طریق کار پر چلے گا، کامیاب ہو گا۔لیکن جو شخص جلد بازی اور عجلت سے کام لے گا وہ اپنے خواب کو شر مندہ تعبیر نہ کر سکے گا۔ہر عقلمند آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہندو مسلمان کا سوال ایک دن میں حل ہونے والا نہیں بلکہ اس کے لئے کچھ وقت کی ضرورت ہے اور پھر انگریز جو دو سو سال سے ہندوستان پر قبضہ کئے ہوئے بیٹھے ہیں۔ایک منٹ میں اسے کیسے خالی کر دیں گے۔مصر کے خالی کرنے کے لئے انگریز تین سال کی مہلت مانگ رہے ہیں اور مصری لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ ایک سال کے اندر اندر اپنی فوجیں نکال لیں حالانکہ مصر میں ہندوستان کی نسبت انگریزوں کا روپیہ بھی کم لگا ہوا ہے، فوجیں بھی کم ہیں اور دوسرے فوائد بھی کم ہیں۔مصر میں انگریزوں کی فوج پچاس ساٹھ ہزار ہو گی اور ہندوستان میں لاکھ ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہو گی اور ہزاروں ہزار سولین افسر یہاں ہیں۔پھر تجارتی مفاد بھی مصر کی نسبت یہاں زیادہ ہے۔جب انگریز مصر کو خالی کرنے کے لئے تین سال کی مہلت مانگ رہے ہیں تو وہ ہندوستان کو کیسے فوراً خالی کر سکتے ہیں۔پس میرے نزدیک تو وہی غزوہ احزاب والا طریق کار گر ہو گا کہ ہندوستان کو آزادی آہستہ آہستہ ملے گی۔یہ بات عقل کے بالکل خلاف ہے کہ انگریز دو چار ماہ میں چلے جائیں گے۔ان کے لاکھوں سپاہی یہاں ہیں، ہزاروں افسر یہاں ہیں، ان کا اربوں ارب روپیہ ہندوستان میں لگا ہوا ہے۔ان افسروں کو اور سپاہیوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے میں کچھ عرصہ لگے گا اور اس اربوں ارب