خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 625 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 625

*1946 625 خطبات محمود مالی نقصان بھی ہو گا لیکن جانیں بچ جائیں گی۔اور سارہ مرحومہ کی اداسی سے مراد پریشانی تھی اُن حالات کے متعلق جو آئندہ ہونے والے تھے۔پس ان کے دو بھائی اور ایک بہن کو ہموطنوں کی طرف سے سخت تکالیف پہنچیں۔وہ خود تو بچ گئے لیکن جائیدادوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ان کو تنگیاں بھی آئیں، کئی دن تک محاصرے میں رہے۔یہ سب کچھ ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے خواب کے مطابق سب کو جانی نقصان سے محفوظ رکھا۔اس کے بعد میں اپنی ایک اور رؤیا کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔وہ رویا میں نے ڈلہوزی سے لکھ کر بھیجوائی تھی اور الفضل (24) اگست (1946ء) میں چھپ چکی ہے۔یہ رویا غالباً 1940ء یا 1941ء کی ہے۔میں نے اُس وقت یہ رویا چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو سنا دی تھی۔مگر وہ کہتے ہیں مجھے یاد نہیں۔بہر حال وہ رو یا موجودہ حالات کے پیدا ہونے سے پہلے چھپ چکی تھی۔وہ رویا یہ تھی کہ میں نے دیکھا میں دہلی میں ہوں اور انگریز حکومت چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے ہیں اور ہندوستانیوں نے حکومت پر قبضہ کر لیا ہے اور بڑی خوشی کے جلسے کر رہے ہیں کہ حکومت ہمارے ہاتھ میں آگئی ہے۔ایک بہت بڑا چوک ہے اُس میں کھڑے ہو کر بڑے زور شور سے لوگ تقریریں کر رہے ہیں اور خطابات تجویز کر رہے ہیں کہ ہندوستان نے یہ حکومت حاصل کی ہے فلاں کو یہ رتبہ دیا جائے اور فلاں کو یہ عہدہ دیا جائے۔میں نے ان کی ان خوشیوں کو دیکھ کر کھڑے ہو کر اُن میں ایک تقریر کی اور کہا۔یہ کام کرنے کا وقت ہے، خوشیاں منانے کا وقت نہیں۔انگریز تو صرف عارضی طور پر پیچھے ہٹے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ وہ پھر کو ٹیں اور یہ سب خوشیاں بے کار ہو جائیں۔اس لئے تقریریں نہ کرو، خوشیاں نہ مناؤ، تنظیم کرو اور تیاری کرو۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں پر میری بات کا اثر ہوا ہے لیکن اکثروں پر نہیں ہوا۔اور وہ اِس خوشی میں کہ ہم نے ملک پر قبضہ کر ہی لیا ہے ، نعرے مارتے ہوئے اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔جب وہ نعرے مار کر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور میدان خالی ہو گیا تو میں نے دیکھا کہ سامنے سے انگریزی فوج مارچ کرتی ہوئی چلی آرہی ہے اور میں نے کہا دیکھو وہی ہوا جس سے میں ڈرتا تھا۔اس وقت میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اب جبکہ ملک آزاد ہو چکا ہے، ملک کی آزادی کو قائم رکھنے کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔میں اپنے دل میں سوچتا ہوں