خطبات محمود (جلد 27) — Page 620
*1946 620 خطبات محمود نے ایک گھوڑا منگوایا اور سپاہی نے اسی تلوار سے گھوڑے کے چاروں پاؤں کاٹ دیئے۔اس کے بعد اس نے بادشاہ سے کہا۔حضور! میرا کوئی قصور نہ تھا۔یہ حضور کا لڑکا خود فن سے کورا ہے۔اس کے ہاتھ میں کوئی اچھی سے اچھی تلوار بھی کام نہیں دے سکتی۔پس ہتھیار اپنی ذات میں کچھ چیز نہیں ہے جب تک اس کو استعمال کرنے والا ماہر نہ ہو۔اس لئے تمہیں چاہئے کہ پہلے تم اپنے اندر تبلیغ کے لئے جوش پیدا کرو۔جب تک تم میں سے ہر شخص یہ عہد نہیں کر لیتا کہ وہ ساری دنیا کو احمدی بنا کر چھوڑے گا، کامیابی نہیں ہو سکتی۔تم اس شہزادے کی طرح مت بنو کہ تلوار کے باوجو د بھی گھوڑے کے پیر نہ کاٹ سکو بلکہ تمہیں چاہئے کہ اس سپاہی کی طرح بننے کی کوشش کرو۔تلوار اور ہنر دونوں اچھی چیزیں ہیں مگر نہ تلوار ہی اکیلی اچھی ہے اور نہ ہنر ہی اکیلا اچھا ہے۔تلوار اور ہنر دونوں لازم و ملزوم ہیں۔جس شخص کے پاس تلوار ہو گی اور ہنر نہ ہو گاوہ تلوار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے گا اور جس شخص کے پاس ہنر ہو گا اور تلوار نہ ہو گی وہ ہنر اس کے لئے کچھ بھی فائدہ مند نہ ہو گا۔پس تلوار تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے خدا تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی ہے مگر اپنے اندر جوش اور اخلاص پید اکر نا تمہارا اپنا کام ہے۔اگر تم اپنے اندر جوش اور اخلاص پیدا کر کے صحیح طور پر اس ہتھیار سے دشمن پر وار کرتے چلے گئے تو دنیا تمہاری ہے، مسیح موعود علیہ السلام کی ہے، اسلام کی ہے ، محمد رسول اللہ صلی علیم کی ہے اور (الفضل 2 دسمبر 1946ء) خدا کی ہے۔اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی۔“ 1: گوه: گو یعنی فضلہ۔غلاظت۔براز 2: حز قیل باب 4 آیت 13 3 الواقعه : 80 4: صحيح مسلم كتاب الفتن باب ذکر الدجال میں یہ الفاظ ہیں۔حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لاَ حَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةٍ دِينَارٍلا حَدِكُمُ الْيَوْمَ 5 سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 272 مطبوعہ مصر 1936ء