خطبات محمود (جلد 27) — Page 550
*1946 550 خطبات محمود کر سکتے ہیں۔اگر کبھی دین کے لئے ہمیں اپنے وطنوں سے ہجرت کرنی پڑی تو ہم ہجرت کس طرح کر سکیں گے۔اگر ہماری جماعت کے افراد کو جیل خانوں میں جانا پڑا تو وہ جیل خانوں میں کس طرح جا سکیں گے۔آخر لوگ جیل خانوں میں کیوں خوشی سے نہیں جاتے؟ اسی لئے کہ وہ ڈرتے ہیں کہ یہاں تو ہمیں اچھا کھانا اور اچھا کپڑ املتا ہے مگر وہاں نہ کھانا اچھا ملے گا نہ کپڑا، اور مشقت کی زندگی بسر کرنی پڑے گی۔اگر ایک شخص نے اپنے گھر میں بھی اچھا کھانا چھوڑ رکھا ہو ، اچھا کپڑا پہننا ترک کر رکھا ہو اور محنت اور مشقت کے کاموں کا عادی ہو تو اُس کے لئے جیل خانہ میں جانا کوئی بڑی بات نہیں ہو گی۔وہ کہے گا یہاں رہے تو کیا اور وہاں گئے تو کیا۔کوئی فرق تو نہیں۔اس کی مثال بالکل ویسی ہی ہو گی جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ ایک نابینا آدمی رات کے وقت کسی سرائے میں بیٹھا دوسروں سے باتیں کر رہا تھا اور اس کی باتیں بہت لمبی ہو گئیں۔پاس ہی ایک بیمار شخص لیٹا ہوا تھا۔جب اس نے دیکھا کہ یہ باتیں ختم ہونے میں ہی نہیں آتیں تو اُس سے برداشت نہ ہو سکا تو اس نے کہا حافظ صاحب ! باتیں بہت ہو چکیں اب سو ر ہو۔حافظ صاحب نے جواب دیا ”ساڈا سونا کی اے چپ ہی ہو رہنا ہے۔“ سونے کی دو ہی علامتیں ہیں ایک آنکھوں کا بند ہو جانا، دوسرے خاموش ہو جانا۔سو آنکھیں تو خدا تعالیٰ نے میری پہلے ہی بند کی ہوئی ہیں اب میرے لئے سونا سوائے اس کے اور کیا ہے کہ میں خاموش ہو جاؤں۔تو جو انسان اپنے لئے آپ جیل خانہ تیار کر لیتا ہے وہ جیل خانہ سے کب گھبر اسکتا ہے۔رسول کریم صلی الی یکم فرماتے ہیں الدُّنْيَا سِجْنُ لِلْمُؤْمِنِ 6 دنیا مومن کے لئے جیل خانہ ہوتی ہے۔اس حدیث کا منشاء در حقیقت یہی ہے کہ تم اپنی زندگی کو سادہ بناؤ اور اس طرح محنت اور مشقت کے عادی بنو کہ تمہارے لئے باہر بھی جیل خانہ ہی بنا رہے۔جب کے کسی کی یہ حالت ہو جائے تو وہ جیل خانہ میں جانے سے ڈرے گا نہیں، بلکہ کہے گا کہ یہاں رہے یا وہاں بات ایک ہی ہے۔فرق اگر ہے تو صرف اتنا کہ باہر اپنے پیسے سے کھانا کھایا کرتے تھے اور اندر دوسروں کے پیسے سے کھانا کھایا کریں گے۔غرض تحریک جدید کے تمام اصول ایسے ہیں کہ اُن پر عمل قومی ترقی کے لئے نہایت ضروری چیز ہے اور آج جبکہ دوسرے لوگ بھی اُن اصول پر عمل کر رہے ہیں ہماری جماعت کو