خطبات محمود (جلد 27) — Page 491
*1946 491 خطبات محمود صا الله سة جیسا کہ فرمایا تَبرَكَ الَّذِي۔اور قرآن کریم کا بھی ذکر ہے جیسا کہ فرمایا نَزَّلَ الْفُرْقَانَ۔پھر رسول کریم صلی علیم کا بھی ذکر ہے جیسا کہ فرمایا عَلی عَبْدِہ۔ضمیر سے پہلے ان تین وجو دوں کا ذکر ہے اور تینوں کی طرف يَكُونَ کی ضمیر پھر سکتی ہے۔اور معنے یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ساری دنیا کا نذیر بن جائے۔قرآن کریم ساری دنیا کا نذیر بن جائے۔رسول کریم صلی ا ہم ساری دنیا کے نذیر بن جائیں۔اور چونکہ ان میں سے کوئی معنے بھی اس جگہ مُتَعَذِّز ( نہیں اس لئے یہ تینوں معنے ہی پائے جانے ضروری ہیں۔قرآن کریم میں یہ خوبی ہے کہ وہ ضمائر سے کام لیتا ہے اور اس طرح سے ایک وسیع مضمون کو چند الفاظ میں بیان کر دیتا ہے اور معانی کے وسیع دریا کو کوزے میں بند کر دیتا ہے۔اگر یہاں لِيَكُونَ اللهُ لِلْعَالَمِيْنَ نَذِيرًا ہوتا تو دو تہائی مضمون ضائع ہو جاتا اور ایک تہائی مضمون رہ جاتا۔اور اگر اللہ تعالیٰ فرماتا لِيَكُونَ الْفُرْقَانُ لِلْعَالَمِيْنَ نَذِيرًا تو بھی دو تہائی مضمون ضائع ہو جاتا اور ایک تہائی مضمون رہ جاتا۔اگر اللہ تعالیٰ لِيَكُونَ عَبْدُهُ لِلْعَالَمِيْنَ نَذِيرًا فرماتا تو بھی دو تہائی مضمون ضائع ہو جاتا اور ایک تہائی مضمون رہ جاتا۔اور اگر اللہ تعالیٰ یوں فرماتا لِيَكُونَ اللهُ وَالْفُرْقَانَ وَرَسُولُهُ لِلْعَالَمِيْنَ نَذِيرًا تو اس طرح عبارت میں طوالت پیدا ہو جاتی۔اور اگر قرآن کریم ضمائر کو اِس رنگ میں بیان نہ کرتا تو موجودہ قرآن کریم سے دس گنا بڑا قرآن ہوتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ضمائر اور مصادر کو لا کر مضمون کی وسعت کو بھی برقرار رکھا ہے اور کلام میں اختصار بھی پیدا ہو گیا ہے۔اِس جگہ مضمون تبھی مکمل ہو سکتا تھا جبکہ ان تینوں کا ذکر کیا جاتا۔چنانچہ ضمیر کے ذریعہ سے تینوں چیزوں کا ذکر کر دیا گیا ہے۔پہلا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالی ساری دنیا کا خدا ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس کی مشیت ساری دنیا کے لئے ہو اور وہ ساری دنیا کے لئے ہدایت کا سامان پیدا کرے۔رسول کریم کی لی کی سے پہلے مختلف علاقوں کی طرف علیحدہ علیحدہ انبیاء آتے تھے اور وہ اپنی اپنی جگہ پر کام کرتے تھے۔اُن کی تعلیم اُن کے علاقہ سے مخصوص ہوتی تھی اور چونکہ اس تعلیم میں اس خاص قوم کو مخاطب کیا جاتا تھا اس لئے جہاں وہ قومیں اس تعلیم کی رہنمائی میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتی تھیں وہاں ان میں آہستہ آہستہ یہ بھی خیال پیدا ہو جاتا تھا کہ خدا تعالیٰ صرف ہمارا ہی خدا ہے