خطبات محمود (جلد 27) — Page 479
*1946 479 خطبات محمود لوگ جو ان سے پہلے ایمان لا چکے تھے اس قدر مشہور نہیں۔صاحبزادہ صاحب کے مشہور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی موت کے ذریعہ ایک ایسی یاد گار قائم کر دی جو قیامت تک مٹ نہیں سکتی اور باقی لوگوں کو اس قسم کی قربانی کا موقع نہ ملا۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی ا ہم کو فرماتا ہے قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ 7 تُو ان لوگوں سے کہہ دے کہ میری نماز اور میری عبادتیں اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میر امر ناسب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ شہادت ایک بہت اعلیٰ مقام ہے اور اس بات کو بھی دیکھتے ہوئے کہ حضرت حمزہ اور دوسرے صحابہ جنہوں نے لڑائیوں میں اپنی جانوں کو بار بار شہادت کے لئے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید کئے گئے اُن کو رسول کریم صلی کام پر ترجیح نہ دی جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو ان سے کہہ دے کہ بے شک شہادت ایک بہت بڑی قربانی ہے اور شہادت مجھے بھی پسند ہے اور میں شہادت سے اپنے آپ کو بچانا نہیں چاہتا لیکن اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ میں میدانِ جنگ میں شہید کیا جاؤں۔اس لئے تم میری عام موت کو دیکھ کر یہ خیال نہ کرنا کہ میں شہادت سے بچنا چاہتا تھا بلکہ میر از ندہ رہنا اور میر امر نا اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔میری زندگی اور میری موت خدا کے رستے میں شہادت کا مقام رکھتی ہیں۔پس جس شخص کا جینا اور مرنا اللہ تعالیٰ کے لئے ہو اس سے زیادہ کامیاب اور کون ہو سکتا ہے۔حضرت خالد بن ولید جب مرض الموت میں تھے تو ان کے ایک دوست ملنے کے لئے آئے۔انہوں نے دیکھا کہ حضرت خالد بہت گھبراہٹ میں ہیں۔انہوں نے حضرت خالد کو تسلی دی اور کہا کہ مرناسب نے ہے آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ اسلام کی خدمت کا آپ کو بہت موقع ملا ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر انعام حاصل کریں گے ، گھبرانے کی کونسی بات ہے؟ حضرت خالد بن ولید نے فرمایا کہ میں اس بات سے نہیں گھبراتا کہ میں مر رہا ہوں۔موت سے کون بچ سکتا ہے بلکہ مجھے اس بات سے بے چینی ہے کہ میں نے ہزاروں دفعہ اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالا اور میں ایسی جگہوں میں داخل ہو ا جہاں سے زندہ نکلنا محال تھا، اور میں نے یہ اس لئے کیا تا مجھے شہادت نصیب ہو۔لیکن میں آج بستر پر مر رہا ہوں۔8 مجھے اس بات سے پریشانی نہیں کہ اس وقت کیوں مر رہا ہوں بلکہ مجھے اس بات سے پریشانی ہے کہ میں