خطبات محمود (جلد 27) — Page 480
*1946 480 خطبات محمود پہلے کیوں نہ مارا گیا۔یہ لوگ خوش قسمت تھے جو اپنی جانوں اور مالوں کو قربان کر کے ہمیشہ کے لئے اپنا نام زندہ کر گئے۔پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو یا اپنے مال کو بچاتا ہے اسے ہم عقلمند نہیں کہہ سکتے کیونکہ اسے یاد گار قائم کرنے کا موقع دیا گیا لیکن اس نے اپنی کم عقلی کی وجہ سے اس موقع کو ضائع کر دیا۔دہلی میں مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ قلعہ اور دوسری عمارتوں پر چاقو سے اپنے نام کنندہ کر جاتے ہیں۔یہ کتنا ذلیل فعل ہے لیکن اس سے ان کی اس خواہش کا پتہ لگتا ہے کہ وہ اپنی یاد گار چھوڑنے کے سخت حریص ہیں۔وہ عمارتیں جولا کھوں اور اربوں روپیہ خرچ کر کے بنائی گئی تھیں وہ صرف یاد گاریں ہی نہیں بلکہ وہ اپنے بنانے والے بزرگوں کے اس جذبہ کا جس کے ماتحت انہوں نے وہ عمارتیں بنائیں اظہار کر رہی ہیں۔قطب مینار صرف اس بات کی علامت نہیں کہ اسے ایک مسلمان بادشاہ نے بنوایا بلکہ وہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ ہندوستان شرک کا گڑھ تھا اور ہندوستان میں ضلالت اور گمراہی زوروں پر تھی یعنی آج سے ایک ہزار سال قبل کچھ لوگوں نے اپنے وطنوں، اپنے رشتہ داروں اور اپنے شہر کو چھوڑا اور دوسرے ملک میں خدائے واحد کا نام بلند کرنے کے لئے آئے اور ان کے ذریعے اسلام کی بنیاد پڑی۔اگر وہ مینار مٹی اور گوبر کا بھی ہوتا تو اس کی قیمت موتیوں اور ہیروں سے بہت زیادہ تھی۔لیکن جو لوگ ان کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں وہ چاقو سے اپنا نام کنندہ کر کے اس یاد گار کو خراب کر دیتے ہیں۔ان کے اس فعل سے یہ پتہ لگتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنا نشان چھوڑنے کی اس قدر خواہش رکھتے ہیں کہ اس خواہش کے پورا کرنے کے لئے وہ بڑے سے بڑا مجرم کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔کتنے تھوڑے وقت کے لئے یہ لوگ ان یاد گاروں کو دیکھنے کے لئے گئے اور اتنی قیمتی چیز کو خراب کرنے سے گریز نہ کیا کہ کسی طرح ان کا نام باقی رہ جائے۔پس انسان کی فطرت بول رہی ہے کہ وہ اپنی یاد گار چھوڑنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ چاہتا ہے کہ بغیر کسی قربانی کے اور بغیر کسی خدمت کے میر انشان باقی رہے۔اور وہ چیز جس کے ذریعہ انسان کا نشان قائم رہ سکتا ہے اُسے غفلت سے اور سستی سے چھوڑ دیتا ہے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ اپنے دائیں بائیں نہیں دیکھتے۔