خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 478

*1946 478 خطبات محمود اس دنیا میں بعض ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جو پیدا ہونے سے پہلے ہی مر دہ ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو پیدا ہونے کے بعد چند گھنٹے زندہ رہتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں۔اور بعض بچپن میں اور بعض جوانی میں اور بعض بڑھاپے میں مرتے ہیں۔پس کسی کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں۔اور انسانی زندگی پر کوئی بھروسہ نہیں کر سکتا۔یہ موت کا سلسلہ ابتدا سے چلا آ رہا ہے اور چلتا چلا جائے گا۔ہر روز سینکڑوں ہزاروں لوگ مرتے ہیں۔پس کسی کی عمر کی کوئی گارنٹی نہیں اور کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ وہ کل تک زندہ رہے گا یا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان میں یہ ایک طبعی جذبہ رکھا ہے کہ میں کوئی ایسی بنیاد رکھوں جس سے میر انام قیامت تک زندہ رہے۔اور عام طور پر دنیا کے لوگ اسی لئے اولاد کی خواہش رکھتے ہیں کہ اولاد سے انسان کا نام باقی رہتا ہے۔لیکن کتنے لوگ ہیں جن کے نام ان کی اولادوں کی وجہ سے اب تک زندہ ہیں ؟ مجھے یہ شوق ہے کہ میں بعض دفعہ ملنے والوں سے پوچھ لیتا ہوں کہ آپ کے پڑدادا کا کیا نام تھا؟ اور اکثر لوگ جواب دیتے ہیں کہ مجھے اپنے پڑدادا کا نام معلوم نہیں حالانکہ اس کے پڑدادا نے کتنی نذریں مانی ہوں گی ؟ کتنی دعائیں کی ہوں گی کہ وہ صاحب اولاد ہو جائے تا اُس کا نام رہے۔لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اس کے پڑپوتے کو یہ بھی معلوم نہیں کہ میرے پڑدادا کا کیا نام تھا۔پس اولاد کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انسان کا نام دیر تک زندہ رہ سکے۔مجھے اس سے انکار نہیں کہ انسان میں یہ ایک طبعی جذبہ ہے کہ وہ چاہتا ہے اس کے بعد اس کی یا گار قائم رہے۔لیکن اس کے لئے جو طریق لوگ اختیار کرتے ہیں وہ درست نہیں۔فرض کرو ایک شخص کسی جگہ بیٹھا ہوا تھا جب وہ وہاں سے جانے لگا تو اس نے اپنی یاد گار چھوڑنے کے لئے کاغذ کا ایک پر زہ وہاں پھینک دیا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اس سے اس کی یاد گار قائم ہو جائے گی ؟ نہیں۔جب بھی تیز ہوا چلے گی تو وہ اس کاغذ کے پرزہ کو اڑا کر لے جائے گی۔یہی حال ان لوگوں کا ہے جو اولاد کے ذریعہ یا مال و دولت کے ذریعہ اپنی یاد گار چھوڑنا چاہتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ وہ یاد گار جو کبھی مٹ نہیں سکتی وہ قربانی سے قائم ہوتی ہے۔حیات مٹ جاتی ہے لیکن موت کے ذریعہ قائم ہونے والا نشان کبھی مٹ نہیں سکتا۔ہماری جماعت میں کتنے مخلص لوگ ہیں۔لیکن جتنا صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کا نام جماعت میں مشہور ہے کسی اور کا نہیں حالانکہ بہت سے