خطبات محمود (جلد 27) — Page 39
*1946 39 خطبات محمود ان کی دکان ہے وہ پہلے لاہور میں رہتے تھے۔جب پہلا الیکشن ہوا ہے اس وقت کانگرس نے الیکشنوں کا بائیکاٹ کر دیا تھا اور جو شخص ووٹ دینے کے لئے جاتا وہ اسے گالیاں دیتے، پتھر مارتے اور بُرا بھلا کہتے۔جس کی وجہ سے لوگ ووٹ دینے سے رُک گئے۔ان دنوں لاہور میں ہمارا غالباً ایک ہی ووٹ تھا۔اب تو خدا تعالیٰ کے فضل سے لاہور میں ہمارے سینکڑوں ووٹ ہیں لیکن اس وقت صرف ایک ہی ووٹ تھا۔اس وقت دو مسلمان امید وار کھڑے ہوئے تھے۔ایک ملک برکت علی صاحب ایڈووکیٹ اور ان کے مقابلہ پر محرم علی صاحب چشتی۔چشتی صاحب مرزا سلطان احمد صاحب کے دوست تھے۔لیکن سلسلہ سے بہت عناد اور تعصب رکھتے تھے لیکن غالباً مر زا سلطان احمد صاحب کی سفارش پر جماعت نے ان کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔جب کانگرسیوں کی طرف سے پتھر پڑے اور گالیاں دی گئیں تو سب ووٹر بھاگ گئے۔اس وقت سارے الیکشن میں غالباً صرف اسی ووٹ گزرے تھے۔اور وہ بھی ایسے جو غوغائیوں کے اجتماع سے پہلے وہاں چلے گئے تھے۔اور جب یہ حالت ہو اُس وقت ایک ایک ووٹ بھی بہت بڑی قیمت رکھتا ہے۔جب یہ کا نگر سی سب لوگوں کو ووٹ دینے سے روک رہے تھے۔شیخ محمد اکرام صاحب بھی اپنا ووٹ محرم علی صاحب چشتی کے حق میں دینے کے لئے گئے تو کا نگر سیوں نے انہیں بھی گالیاں دینی شروع کیں۔اور ان پر پتھر پھینکنے شروع کئے لیکن یہ بڑھتے گئے اور کہتے جاتے تھے کہ مجھے تو اپنے امام کا حکم ہے اس لئے میں نے ووٹ ضرور دینا ہے۔یہ چلے جار ہے تھے کہ ان کے ایک پتھر لگا اور اس پتھر کے لگنے کی وجہ سے خون بہنے لگا لیکن یہ گزرتے چلے گئے اور یہی کہتے گئے کہ مجھے تو اپنے امام کا حکم ہے اس لئے میں نے ضرور جاتا ہے۔آخر پتھر مارنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ یہ احمدی ہے اس نے تو ضرور جانا ہے۔یہ رُکے گا نہیں اسے کچھ نہ کہو۔اس بات کا محرم علی صاحب چشتی پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ بعد میں کہا کرتے تھے کہ میں تو اس ایک ووٹ کی وجہ سے احمدیت کا قائل ہو گیا ہوں۔اور میں مانتا ہوں کہ جو قربانی اس جماعت کے افراد میں پائی جاتی ہے وہ دوسرے لوگوں میں نہیں۔حتٰی کہ جب الیکشن پٹیشن ہوئی اور مجھے گواہ کے طور پر بلایا گیا تو انہوں نے عدالت میں میرے سامنے اس خیال کا اظہار کیا کہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ ایک شخص کو گالیاں دی جائیں، پتھر مارے جائیں