خطبات محمود (جلد 27) — Page 429
*1946 429 خطبات محمود سرت بڑھ کر تھے۔آپ کے دشمنوں نے بے گناہ بچوں اور عورتوں کو قتل کیا اور اس قدر مظالم کئے کہ اُن کو بیان کرتے ہوئے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ہر نبی کے خلاف اس کے دشمنوں کا کینہ و بغض بتاتا ہے کہ غلط عقائد کو دلوں سے نکالنا آسان کام نہیں۔ہمارے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو آپ کے دشمنوں نے تکلیفیں دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔آپ ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے جہاں آئینی حکومت تھی اور دشمن اپنی ناپاک کوششوں کے باوجود آپ کو کسی قسم کی گزند نہ پہنچا سکے۔لیکن ہندوستان سے باہر افغانستان میں ہمارے پانچ احمدی شہید کئے گئے، مصر میں ایک احمدی شہید کیا گیا اور کئی ملکوں میں احمدیوں کو بہت سی تکلیفیں دی گئیں۔ابھی پیچھے ہی ایک احمدی شریف دو تسا نامی جو کہ البانیہ کے رہنے والے تھے امن پسند ہونے اور کمیونزم کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے شہید کئے گئے۔ہمارے ملک میں چونکہ آزاد حکومت نہ تھی اس لئے دشمن احمدیوں کو سنگسار نہ کر سکے اور نہ ہی ان کو پھانسی پر لٹکا سکے۔اس کے سوا احمدیوں کو ہر قسم کی تکلیفوں کا نشانہ بنایا گیا۔انہیں گھروں سے بے گھر اور وطن سے بے وطن کر دیا گیا اور جہاں تک بس چلا مار پیٹ سے بھی دریغ نہ کیا۔قادیان میں ہی جس کے ہم مالک ہیں لوگوں نے آپس میں سمجھوتہ کر کے ہمارا کلی طو پر مقاطعہ کر دیا۔قادیان کے حجاموں کو منع کر دیا گیا کہ وہ ہماری حجامت نہ بنائیں، دھوبیوں کو منع کر دیا گیا کہ وہ ہمارے کپڑے نہ دھوئیں، کمہاروں کو منع کر دیا گیا کہ وہ ہمیں برتن بنا کر نہ دیں، قصابوں کو منع کر دیا گیا کہ وہ ہمیں گوشت نہ دیں۔غرض ہر قسم کی تکلیفیں ہمیں دی گئیں۔یہاں تک کہ مسجد کے آگے دیوار کھینچ دی گئی کہ احمدی نماز پڑھنے کے لئے نہ آسکیں جو کہ دو سال کے مقدمے کے بعد گرائی گئی اور آج تک اس قدر گالیاں قادیان میں دی جاتی ہیں کہ جن کی کوئی حد ہی نہیں۔قادیان سے باہر تو احمدی اور بھی زیادہ تختہ مشق بنے ہوئے تھے۔گاؤں میں کمین لوگوں میں سے کوئی اگر احمدی ہو جاتا تھا تو اس کا گاؤں میں رہنا محال ہو جاتا تھا۔کمزور اور غریب زمینداروں کی فصلیں کاٹ لی جاتی تھیں اور اس طرح انہیں مجبور کیا جاتا کہ وہ احمدیت کو چھوڑ دیں۔قادیان میں جس کے ہم مالک ہیں ہمارے ساتھ ایسا تکلیف دہ سلوک کیا جاتا تھا تو باہر والوں سے کیا کچھ ہو اہو گا۔ہماری جماعت میں