خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 430

*1946 430 خطبات محمود سینکڑوں انسان ایسے ہیں جن کو اس قسم کی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا۔سینکڑوں والدین ایسے ہیں جن کو ان کے بچوں نے احمدیت کی وجہ سے چھوڑ دیا اور سینکڑوں بچے ایسے ہیں جن کو ان کے والدین نے احمدیت کی وجہ سے چھوڑ دیا۔سینکڑوں خاوند ایسے ہیں کہ احمدی ہو جانے کی وجہ سے ان کی بیویوں نے ان کے گھر رہنے سے انکار کر دیا اور سینکڑوں عور تیں ایسی ہیں جن کے خاوندوں نے ان کے احمدی ہو جانے کی وجہ سے ان کو طلاق دے دی اور بعض والدین نے تو یہاں تک کیا کہ اپنے احمدی بچوں کو اپنی جائیداد سے ہی لاوارث کر دیا۔یہاں ڈلہوزی میں ہی ایک احمدی دوست ملنے کے لئے آئے تھے۔انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ میرے والد صاحب نے مجھے جائیداد سے لاوارث کر دیا ہے۔جب سے میں احمدی ہو ا ہوں پہلے سے بہت زیادہ ان کی خدمت کرتا ہوں اور جو مانگتے ہیں حاضر کرتا ہوں حالانکہ میری مالی حالت اچھی نہیں۔باوجود ان تمام باتوں کے میرے والد صاحب نے لکھ دیا ہے کہ میں اسے لاوارث کرتا ہوں۔یہ لمبا سلسلہ عداوتوں کا بتاتا ہے کہ انبیاء کے دشمنوں کو انبیاء اور ان کی جماعتوں سے کس قدر کینہ اور بغض ہوتا ہے اور اسے آسانی سے دور نہیں کیا جاسکتا۔اسے دور کرنے کے لئے ایک بہت بڑی جد و جہد اور قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔پس جب تک ہماری جماعت دیوانہ وار تبلیغ میں لگ نہ جائے اور جب تک دنیا اسے مجنون نہ کہنے لگ جائے اُس وقت تک تبلیغ کا میاب نہیں ہو سکتی۔آج ہم بھی اسی رستہ پر چل رہے ہیں جس پر پہلے انبیاء کی جماعتیں چلتی رہی ہیں۔اگر حضرت نوح کے زمانہ میں حضرت نوح کی جماعت کو دیوانہ اور مجنون کہا گیا، اگر حضرت ابراہیم کے زمانہ میں آپ کی جماعت کو دیوانہ اور پاگل کہا گیا، اگر حضرت موسیٰ کے زمانہ میں آپ کی جماعت کو دیوانہ اور پاگل کہا گیا، اگر حضرت عیسی کے زمانہ میں آپ کی جماعت کو پاگل اور مجنون کہا گیا، اگر رسول کریم صلی اللہ نیلم کے زمانہ میں آپ کے ساتھیوں کو مجنون اور دیوانہ سمجھا گیا تو کیا وجہ ہے کہ ہماری جماعت کو دیوانہ اور مجنون نہیں کہا جاتا۔اصل وجہ یہ ہے کہ ابھی ہماری کوشش اس مقام پر نہیں پہنچی اور ابھی ہم نے اس رنگ میں کام شروع نہیں کیا کہ دنیا ہمیں مجنون سمجھنے لگ جائے۔بغیر دیوانہ کہلائے منزلِ مقصود تک پہنچنا مشکل ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے