خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 416

*1946 416 خطبات محمود لیکن اخبار کا مطالعہ نہیں کریں گے اور اپنی قوم کی بہتری اور فائدہ کے لئے کوئی کوشش نہیں کریں گے۔ان کے دماغ پر اگندہ ہو گئے ہیں اور ذہن مُردہ ہو گئے ہیں اور ان کو قومی خوبیاں یا قومی نقائص نظر ہی نہیں آتے۔پس ایک مومن کو چاہئے کہ وہ بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرے کہ یا اللہ ! رحم کر، یا اللہ ! رحم کر۔اپنی ذہنی حالت، اپنی علمی حالت اور اپنی ضرورتوں کا بغور مطالعہ کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ اے خدا! تُو میرے ذہن میں جلا پیدا کر دے۔یا الہی ! تو میرے دماغ میں وسعت پیدا کر دے کہ وہ باریک سے باریک مضامین کو اخذ کر سکے۔یا الہی ! تو مجھے دینی مسائل سمجھنے کی توفیق عطا فرما اور تقویٰ کی باریک راہیں مجھ پر کھول دے۔ایسی دعا صرف دعا ہی نہیں ہو گی بلکہ وہ ایک مدرسہ ہو گی جس میں اس کے ذہن اور عقل کی تیزی کے سامان ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا اس دعا کو قبول کرنا ایک زائد بات ہو گی۔میں نے ذہانت کے متعلق بتاتے ہوئے ایک بزرگ کی مثال دی ہے لیکن اس سے بڑھ کر ایک تازہ مثال مجھے یاد آئی ہے۔میں نے پچھلے خطبہ میں انڈونیشیا کی ہمدردی کی طرف جماعت کو توجہ دلائی تھی۔جب وہ خطبہ میرے پاس نظر ثانی کے لئے آیا تو مجھے اس کو پڑھ کر بہت افسوس ہوا ہے کہ ہماری جماعت دوسری تمام جماعتوں سے تعلیمی معیار کے لحاظ سے اول نمبر پر ہے اور ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے لیکن مجھے سخت حیرت ہوئی کہ خطبہ نویس مولوی فاضل ہے اور جامعہ احمدیہ کا پاس شدہ ہے۔اس نے خطبہ میں میری طرف یہ منسوب کیا ہے کہ گویا میں نے کہا تھا کہ انڈونیشیا میں فرانسیسی حکومت ہے۔ہمارے مبلغ انڈونیشیا میں ہیں اور تبلیغی رپورٹیں چھپتی رہتی ہیں لیکن اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ انڈونیشیا میں کونسی حکومت ہے۔ہمارے مبلغ وہاں ہیں سال سے کام کر رہے ہیں۔اگر مبلغ نہ بھی ہوتے تو بھی میرا خدا کے فضل سے مطالعہ اتنا وسیع ہے کہ میں اس قسم کی غلطی نہیں کر سکتا تھا۔اگر اسے صحیح طور پر علم نہیں تھا تو اگر اس میں غور کرنے کا مادہ ہو تا تو وہ فوراً کسی سے پوچھ لیتا یا اخبار کی طرف توجہ کرتا۔اگر اسے پہلے علم نہ تھا تو اسے میرے منہ سے سن کر ہی یاد رکھ لینا چاہئے تھا کہ وہاں ڈچ حکومت ہے یا فرانسیسی حکومت ہے۔حیرت کی بات ہے کہ اکثر