خطبات محمود (جلد 27) — Page 410
*1946 410 خطبات محمود چنانچہ ایک جنگ کا واقعہ ہے کہ آپ کو معلوم ہوا کہ صحابہ کے پاس خور و نوش کا سامان کم ہے اور ممکن ہے کہ بعض بالکل بھو کے رہیں تو آپ نے حکم دیا کہ جس کے پاس جو کچھ ہے وہ لے آئے۔جب سب چیزیں جمع کر دی گئیں تو آپ نے غلہ، کھجوریں اور ستو وغیرہ سب میں برابر برابر تقسیم کر دیئے 6 اور یہی طریق راشننگ کا طریق ہے جو طریق آپ کے لئے ممکن تھا اس پر آپ نے عمل کیا اور جو طریق وسعت مالی چاہتا تھا وہ وسعت مالی حاصل ہونے پر حضرت عمرؓ نے جاری کر دیا اور حکم دیا کہ جب بچہ پیدا ہو اسی وقت سے اس کی غذا کا انتظام کیا جائے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ساری اسلامی مملکت میں کوئی شخص ایسا نہ تھا جو یہ جانتا ہو کہ فاقہ کیا چیز ہے۔ہر ایک کے لئے غلہ مقرر تھا اور ہر ایک کو غذا مل جاتی تھی۔اس طریق کی طرف کس نے ہدایت دی ؟ یقیناً روزوں نے۔روزوں نے مسلمانوں کے دلوں میں غریبوں کی ہمدردی کا احساس پیدا کیا اور انہوں نے قرآنی تعلیم پر غور کر کے سب کے لئے خوراک ولباس کے انتظام کا گر معلوم کر لیا۔اور اس کے مطابق سارے ملک میں احکام جاری کر دیئے۔اس انتظام کی وجہ سے تمام اسلامی مملکت میں ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو یہ جانتا ہو کہ فاقہ کیا چیز ہے۔لیکن آج کوئی ایک گاؤں بھی ایسا نہ ملے گا جس میں کچھ لوگ یہ نہ جانتے ہوں کہ فاقہ کیا چیز ہے؟ کتنابڑا فرق ہے جو اسلامی حکومت میں اور آجکل کی حکومتوں میں ہے۔اسلامی حکومت میں ہر شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق غذ امل جاتی تھی کیونکہ اگر غذا نہ ملے تو انسان کام نہیں کر سکتا اور اگر کام نہ کرے تو وہ قوم کے لئے مفید وجود ثابت نہیں ہو سکتا۔پس اسلام کی اجتماعی اور انفرادی عبادات سب کی سب اپنے اندر بہت ہی حکمتیں رکھتی ہیں۔لیکن بہت کم لوگ ان حکمتوں کے متعلق سوچتے ہیں اور ان عبادات سے پورے طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدہ کے لئے اس میں عادت کا مادہ پیدا کیا ہے لیکن انسان بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کے اپنی کمزوری کی وجہ سے اندھا دھند کام کرنے لگ جاتا ہے اور عادت اس کے ذہن سے اس فعل کی حکمتوں کو نکال دیتی ہے اور بغیر سوچے سمجھے ہی عادت کے ماتحت کام کئے جاتا ہے اور یہ نہیں سوچتا کہ یہ کام میں کیوں کر رہا ہوں۔حالانکہ عادت دوسری چیز ہے اور پہلا مقام سوچ بچار کا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان میں عادت کا مادہ اس لئے