خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 411

*1946 411 خطبات محمود رکھا ہے کہ تاجب وہ سوچ بچار کر کے ایک عمل کرنے کا فیصلہ کرے تو پھر عادت سے وہ کام اس کے لئے آسان ہو جائے اور کم سے کم وقت میں وہ اسے بجالائے۔اگر عادت کا مادہ نہ ہو تا اور ہر دفعہ ہر عمل کے وقت سوچ اور فکر سے کام لیتا تو بہت ہی تھوڑا کام کر سکتا اور اس کی طبیعت پر بے حد بوجھ ہوتا۔اس نقصان سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان میں عادت پیدا کر دی ہے تا وہ متواتر کام کرتا چلا جائے اور اسے ہر کام کے لئے نئے سرے سے جد و جہد نہیں کرنی پڑتی۔اور آپ ہی آپ طبعی طور پر اس سے افعال صادر ہوتے جاتے ہیں۔اگر ہر دفعہ کسی کام سے پہلے ہم سوچا کریں کہ ہم نے یہ کام کرنا ہے پھر یہ سوچیں کیوں کرنا ہے تو یہ کام بہت مشکل ہو تا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی یہ عادت بنا دی ہے کہ وہ افعال کی نوعیت کے متعلق سوچتا ہے اور ان کے نفع و نقصان کے متعلق فیصلہ کرتا ہے۔پھر وہ اُن کاموں کو عادت کے طور پر بغیر کسی خاص جد وجہد کے سر انجام دیتا چلا جاتا ہے۔پس عادت نے بہت بڑا فائدہ انسان کو پہنچایا ہے۔بشر طیکہ ان افعال کی حکمتیں اس کے ذہن سے نہ نکلیں اور غور و فکر کا مادہ اس میں قائم رہے۔لیکن اس وقت حالت یہ ہے کہ غور و فکر جو اصل چیز تھی اس کو لوگوں نے عادت کا غلام بنادیا ہے۔بجائے اس کے کہ عادت تابع ہو فکر اور تدبر کے ، تدبر اور فکر کو عادت کے تابع کر دیا ہے۔انگریزی میں ایک مثال ہے کہ گھوڑا پیچھے گاڑی آگے۔انسان کے لئے پہلا مقام غور و فکر کا ہے اور دوسر ا مقام عادت کا ہے۔لیکن اب لوگوں نے عادت کو پہلا مقام اور غور و فکر کو دوسر ا مقام دے دیا۔اگر ان سے کسی کام کی حکمت کے متعلق پوچھا جائے کہ آپ لوگ یہ کام کیوں کرتے ہیں؟ تو کہہ دیتے ہیں ہمیں تو معلوم نہیں۔ہمارے باپ دادے ایسا کرتے تھے اس لئے ہم بھی ایسا کرتے ہیں۔جب میں حج کے لئے گیا تو ہمارے ساتھ ایک سیدھے سادے آدمی تھے۔نانا جان مرحوم ان کو اپنے ساتھ حج کے لئے لے گئے تھے۔اُن کا نام عبد الوہاب تھا۔ایک دن ہم جڑے میں بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کا مذہب کیا ہے؟ کہنے لگے میرا مذہب ؟ میں نے کہا ہاں آپ کا مذہب۔میں سمجھا کہ وہ کوئی جواب دیں گے لیکن وہ خاموش ہو گئے۔کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے دوبارہ کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا ہے کہ آپ کا