خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 384

*1946 384 خطبات محمود ہماری جماعت میں ایسی قربانیاں لاکھوں کی تعداد میں ہونی چاہئیں۔سید عبد اللطیف شاہ صاحب شہید نے جو قربانی پیش کی ہے وہ اتنی عظیم الشان ہے کہ دنیا میں ایسی قربانیاں سوائے صحابہ کے اور کسی نے نہیں کیں۔وہ جب بیعت کر چکے تو انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ میرے کان میں آواز آرہی ہے کہ تیرے ملک کو تیری قربانی کی ضرورت ہے۔عام لوگ اس زمانہ کو اپنے خیالوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ابھی قربانی کا زمانہ تو بہت دور ہے لیکن سید عبد اللطیف شاہ صاحب شہید نے قادیان سے ہی کہنا شروع کر دیا کہ میرا ملک میری جان کی قربانی مانگ رہا ہے۔جو نہی اپنے ملک میں پہنچے ، جاتے ہی بادشاہ کو احمدیت کا پیغام دیا اور بعض کتابیں بھی مطالعہ کے لئے بھیجوائیں۔لیکن بادشاہ نے ملک کے علماء کے فرمان کے مطابق گرفتاری کا حکم دیا۔جب گرفتاری کے لئے گورنر نے بلوایا تو آپ نے بڑے شوق سے باہیں آگے کر دیں اور فرمایا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تیرے ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔گرفتاری کے بعد جیسا کہ بعض معتبر اشخاص نے بیان کیا ہے اور ایک اٹالین انجینئر نے جو افغانستان میں ملازم تھا اپنی کتاب میں بھی لکھا ہے کہ سید عبد اللطیف سے کہا گیا کہ آپ بے شک یہی عقیدہ رکھیں لیکن آپ تقیہ کر لیں۔لیکن آپ نے جواب دیا کہ میں کیوں تقیہ کرلوں۔میں تو اس وقت کا منتظر تھا۔آپ نے ہر تجویز کو رد کر دیا تو آپ کو شہید کر دیا گیا۔یہ وہ چیز ہے جسے ہم قربانی کہہ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ہندوستان میں بھی اور باہر بھی کئی افراد نے اس قسم کی قربانیاں پیش کی ہیں لیکن ضرورت تو اس بات کی ہے کہ ساری جماعت ایسی قربانیاں کرے اور ایسی قربانیوں کے لئے تیار ہو جائے اور ہماری جماعت کے بچے، جوان اور بوڑھے اور مرد اور عورتیں سب کے سب ایسی قربانیوں کے لئے تیار ہوں۔اسلام روپیہ کمانے اور روپیہ جمع کرنے سے نہیں روکتا۔اسلام زمینوں کی حفاظت سے نہیں روکتا لیکن اس کے ساتھ اسلام اس بات کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ جب اسلام کی طرف سے یہ آواز بلند کی جائے کہ اسلام کو تمہارے روپیہ اور تمہاری جائیدادوں کی ضرورت ہے تو پھر وہ چیزیں تمہاری نگاہ میں بے قدر ہو جائیں اور تم بلا دریغ، ضرورتِ اسلام کے لئے ان چیزوں کو خرچ کر دو۔اسلام میں روپیہ جمع کرنا منع نہیں۔حضرت ابو بکر نے روپیہ جمع کیا ہوا تھا