خطبات محمود (جلد 27) — Page 383
*1946 383 خطبات محمود مفہوم میں کوئی فرق نہیں۔آخر لوگ ان کو ایسا کیوں کہتے تھے ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے سامنے جو مقصد تھا اُس کو حاصل کرنے کے لئے وہ کسی روک کی پروا نہیں کرتے تھے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ان کے سر پھوڑ دیئے گئے ، ان کا خون بہایا گیا، وہ جلا دیئے گئے، چیر دیئے گئے ، تباہ و برباد کر دیئے گئے لیکن وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے قدم آگے ہی بڑھاتے گئے۔ان کو لوگ پاگل اس لئے کہتے تھے کہ دنیا کے عقلمندوں کو ان کی تمام باتیں الٹی نظر آتی تھیں۔دنیا کے لوگ روپیہ جمع کرتے تھے اور یہ پاگل کہلانے والے اپنے اموال کو خدا کی راہ میں بکھیرتے تھے۔لوگ اپنے آرام کے لئے مال جمع کرتے تھے اور یہ پاگل کہلانے والے ان مالوں کو تقسیم کرتے تھے۔لوگ اپنے بچوں سے محبت کرتے تھے اور ان کو اپنے سے جدا نہ کرتے تھے لیکن یہ پاگل اور دیوانے خدا کی راہ میں اپنے بچوں کو قربان کرتے تھے۔لوگ سمجھتے تھے کہ چونکہ یہ پاگل ہو گئے ہیں اس لئے ان کو اپنے بچوں سے محبت نہیں رہی۔لوگ اپنی بیویوں سے جدا نہیں ہونا چاہتے اور یہ پاگل کہلانے والے دین کی تبلیغ کے لئے اپنی بیویوں کو چھوڑ کر تبلیغ دین کے لئے دور دور نکل جاتے تھے۔لوگ اُن کو مارتے اور یہ خدا کی راہ میں ماریں کھاتے اور پھر بھی خوش رہتے۔غرض تمام وہ باتیں جو عقلمند لوگ اپنے لئے ضروری سمجھتے تھے یہ اس کے خلاف کرتے۔سیاستدان بھی ان کو پاگل سمجھتے اور تاجر اور زمیندار لوگ بھی اُن کو پاگل سمجھتے تھے کیونکہ تاجروں کے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ مالِ تجارت کی حفاظت کی جائے اور اسے بڑھانے کی کوشش کی جائے۔لیکن یہ پاگل کہلانے والے جائیدادوں اور اموال کی پروانہ کرتے ہوئے وطن سے ہجرت کر جاتے اور تجارتوں کو چھوڑ جاتے تھے۔پس لوگ ان کی حیرت انگیز قربانیوں کو دیکھ کر ان کو پاگل کہنا شروع کر دیتے تھے۔لیکن ہماری جماعت کی ابھی یہ حالت نہیں ہوئی اور دنیا ابھی ہمیں پاگل اور مجنون نہیں کہتی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی ہماری قربانیاں انبیاء کی جماعتوں کے معیار کو نہیں پہنچیں۔بے شک بعض افراد نے شاندار قربانیاں پیش کی ہیں اور ہم ان کی قربانیوں کا انکار نہیں کر لیکن بعض افراد کا ایسی قربانیاں پیش کرنا ساری جماعت کے لئے کافی نہیں ہو سکتا بلکہ