خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 27

*1946 27 خطبات محمود جب کوئی بُرا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔اسی طرح سیاہ اور سفید نقطے بڑھتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ اگر کسی کی نیکیاں غالب آجاتی ہیں تو اس کا سارا دل سفید ہو جاتا ہے اور اگر کسی کی بدیاں غالب آجاتی ہیں تو اس کا سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔1 پس جب کسی شخص کے دل میں نیکی کی تحریک پید اہو اس کو چاہئے کہ جلد اس کی طرف قدم اٹھائے ورنہ اگر سة بار بار تحریک کے باوجود اس کا قدم نہ اٹھا تو نتیجہ یہ ہو گا کہ رسول کریم صلی الم کے اس فرمان کے مطابق ایک دن اس کا دل پورے طور پر سیاہ ہو جائے گا۔ہماری جماعت کے لئے یہ خطرہ بہت زیادہ ہے۔اس لئے کہ متواتر اور متواتر اور متواتر ہر جمعہ اور ہر تقریب پر ان کو خدا تعالیٰ کے دین کی طرف بلائے جانے کے لئے آواز بلند کی جاتی اور دین اسلام کے لئے قربانی کرنے کے لئے تحریک کی جاتی ہے۔ہر ذریعہ کو استعمال کر کے ، اسلامی اور قرآنی شواہد کو استعمال کر کے، صحابہ کی بے نظیر قربانیوں کا نمونہ بتا کر ، رسول کریم صلی الم کی خواہشات کو بیان کر کے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کو پیش کر کے ، آپ کے زمانہ کے صحابہ کی قربانیاں پیش کر کے ، عقل کے ساتھ، زمانہ کے حالات اور زمانہ کے مفاسد دکھا دکھا کر، غرض ہر رنگ میں تحریک کی جاتی ہے اور جب بھی وہ تحریک ہوتی ہے نوجوانوں کے دلوں میں ہمیشہ خیال پیدا ہو تا ہو گا کہ ہم بھی اس پر عمل کریں۔لیکن پھر ارد گرد کی مشغولیتیں، دوستوں کی مجلسیں اور اپنے عزیزوں اور ماں باپ کی حاجتیں حائل ہو جاتی ہوں گی۔ان کے دل کا سفید نقطہ مُرجھانا شروع ہو جاتا ہو گا اور اس کی جگہ سیاہ نقطہ لگ جاتا ہو گا۔اور ہر دفعہ جب یہ تحریک ہوتی ہو گی بجائے ان کو نیکی کی طرف توجہ دلانے کے ان کے سفید نقطہ کو آہستہ آہستہ سیاہ نقطہ میں تبدیل کر دیتی ہو گی۔پس جہاں یہ بار بار کی تحریکیں جماعت کے ایک حصہ میں بیداری پیدا کرنے کا موجب ہیں وہاں دوسرے حصہ کے لئے خطرناک بھی ہیں کیونکہ وہ انہیں نظر انداز کرنے کے بعد اپنے دل پر سیاہ نقطہ لگانے کا موجب ہو جاتے ہیں۔پس جماعت کے دوستوں کو جن کے دلوں میں ان تحریکوں سے کوئی نیکی کا ارادہ پیدا ہوتا ہے چاہئے کہ جلد از جلد اپنے مقصود اور نیک ارادوں کو پورا کرنے کے لئے قدم اٹھائیں۔دنیا میں انسان پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں، دنیا میں مغلوب بھی ہوتے ہیں اور غالب بھی ہوتے ہیں مگر سب سے زیادہ