خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 26

*1946 26 2 خطبات محمود عرش کا مالک خدا تم سے دین کے لئے قربانی طلب کرتا ہے ( فرموده یکم فروری 1946ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔چونکہ یہ دن دوائی کی باری کے ہیں اور ان دواؤں سے مجھے ضعف کی شکایت ہو جاتی ہے اس لئے میں زیادہ بول نہیں سکتا۔صرف اختصاراً جماعت کو میں پھر اس مضمون کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کی طرف میں نے گزشتہ جمعہ میں بھی توجہ دلائی تھی۔بالخصوص اس امر کی طرف میں جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت متواتر مبلغین کی مانگیں آرہی ہیں۔بیرون ہند سے ہی نہیں بلکہ ہندوستان سے بھی۔اور بعض لوگ اپنے خرچ پر بھی مبلغ رکھنے کے لئے تیار ہیں مگر ہمارا مبلغین کا خزانہ بالکل خالی ہو چکا ہے۔وہ مبلغ جو باہر گئے ہیں ابھی ان کے قائم مقام بھی ہمارے پاس پورے نہیں قریباً پچیس مبلغ باہر جاچکے ہیں لیکن ان کے قائم مقام ہمارے پاس صرف دس ہیں جو اس وقت تعلیم پارہے ہیں اور ان میں سے بھی بعض ایک لمبے عرصہ کے بعد تعلیم سے فارغ ہوں گے۔چنانچہ جو طالب علم آئندہ نکلنے والے ہیں ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو تین سال کے اندر بھی فارغ نہیں ہو سکتے۔کچھ چار سالوں میں فارغ ہوں گے اور کچھ پانچ سالوں میں۔پس جماعت کے وہ نوجوان جن کے دلوں میں باہر جانے والے لوگوں کے کارنامے پڑھ پڑھ کر گد گدیاں پیدا ہوتی ہیں اور انہیں خواہش ہوتی ہے کہ کاش! ہم بھی یہ کام کر سکتے ، ان کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ نیک تحریکیں بھی دورہ کے طور پر آیا کرتی ہیں۔رسول کریم صلی نیم فرماتے ہیں جب کوئی شخص نیکی کا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سفید نقطہ لگ جاتا ہے اور