خطبات محمود (جلد 27) — Page 336
*1946 336 خطبات محمود تیزی بہت خطر ناک صورت اختیار کر جاتی ہے۔یہاں تک کہ ذہن اور حش کی تیزی بعض اوقات انسان کے لئے وبالِ جان ہو جاتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آدمیوں کو سخت سے سخت الفاظ بھی کہے جائیں تو اُن کی طبیعت پر گراں نہیں گزرتے اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ایک لفظ بھی نہیں سن سکتے۔ہم عورتوں میں ہی دیکھتے ہیں کہ جو عور تیں کم حساس ہوتی ہیں ان کو ان کے خاوند ڈنڈے مارتے ہیں، سخت سے سخت الفاظ کہتے ہیں لیکن وہ اسی طرح چاق و چوبند رہتی ہیں۔لیکن جو عورتیں حساس ہوتی ہیں ان کے خاوند نہ انہیں مارتے ہیں نہ ہی سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں بلکہ وہ صرف خاوند کے ایک طعنہ پر ہی مر کر مٹی ہو جاتی ہیں اور چند دنوں کے بعد ہی خون تھوکنے لگتی ہیں۔مگر ایک وہ ہوتی ہیں کہ خاوند چوٹی سے پکڑ کر گھسیٹتا ہے ، بھوکا رکھتا ہے لیکن ان کے چہرے اور ان کے جسم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی حش تیز نہیں ہوتی۔وہ ہر موقع پر ہنس کر کہہ دیتی ہیں چلو کیا ہوا۔لیکن جو عور تیں حساس ہوتی ہیں وہ بات بات پر کہتی ہیں کہ ایسا کیوں ہوا ؟ اور چھوٹی سے چھوٹی بات ان کو محسوس ہوتی ہے اور ان کو مسلول 2 بنادیتی ہے۔تو احساس کی ترقی انسان کے لئے تکلیف کا موجب بھی ہوتی ہے۔اور ذہن کی ترقی کے معنے بھی دراصل جس کی ترقی ہی کے ہیں۔جس قوم میں ملتی تعاون مفقود ہو اور اس کے افراد کے ذہن ترقی کر جائیں تو یہ ذہنی ترقی ان کے لئے رحمت نہیں بلکہ زحمت ثابت ہوتی ہے اور ان کی دولت ان کے لئے عذاب بن جاتی ہے۔وہ اگر فقر اور غربت کی حالت میں ہوتے تو اچھا تھا۔اگر ان کا ذہن اور ان کا حافظہ تیز نہ ہو تاتو وہ آرام میں رہتے کیونکہ جتنا کسی قوم کا حافظہ تیز اور ذہن بلند ہو گا اتنا ہی اس کے افراد میں نکتہ چینی کا مادہ زیادہ ہو گا اور وہ ہر وقت یہی سوچتے رہیں گے کہ فلاں کام ہونا چاہئے تھا نہیں ہوا۔فلاں کام اس طور پر ہونا چاہئے تھا نہیں ہوا۔لیکن چونکہ ان میں باہمی تعاون نہیں، قومی روح نہیں اس لئے وہ اپنے ارادوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتے۔اور ایسے لوگوں سے کام لینے والا شخص ان سب سے زیادہ دکھ میں ہوتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ میں نے فلاں کام کرنے کے لئے کہا تھا لیکن ابھی تک نہیں ہوا۔اگر اس کا حافظہ تیز نہ ہو تا تو وہ آرام میں رہتا اور وہ بھول جاتا کہ میں نے کسی کام کے کرنے کے لئے کہا تھا یا نہیں۔لیکن اس کا حافظہ اسے وہ بات بھولنے نہیں دیتا۔اگر اس کا ذہن