خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 301

*1946 301 خطبات محمود سة بے شک تم نے بڑا کام کیا لیکن پھر بھی اگر میں ہو تا تو تمہیں دکھاتا کہ بڑا کام کسے کہتے ہیں۔عام طور پر جیسا کہ میں نے کہا ہے ایسے لوگ بزدل ہوتے ہیں، کمینے ہوتے ہیں اور دوسرے کی بہادری دیکھ کر اس کو برداشت نہیں کر سکتے مگر وہ واقعہ ایسا تھا کہ صحابہ میں سے مخلصین کی ایک جماعت پیچھے رہ گئی تھی اور جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ بھی سمجھتے تھے کہ اگر ان کو موقع ملتا تو وہ ویسی ہی قربانیاں کرتے جیسی ہم نے کی ہیں۔وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے۔پس مالک اور ان جیسے لوگ یہ باتیں اخلاص اور تقویٰ سے کہتے تھے اور حقیقی عشق کی بناء پر ایسے دعوے کرتے تھے نہ کہ لاف و گزاف سے۔ایسے لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ نے اُحد کا موقع پیدا کر دیا۔جب بعض مسلمانوں کی غلطی کی وجہ سے اسلامی لشکر تتر بتر ہو گیا۔تو جہاں رسول کریم صلی الیم کھڑے تھے وہاں کفار نے حملہ کر دیا۔آپ کے ارد گرد جو صحابہ حفاظت کے لئے کھڑے تھے ان میں سے بعض زخمی ہو کر گر گئے اور بعض شہید ہو گئے۔خود رسول کریم صلی ایم کے بعض دانت ٹوٹ گئے اور آپ بے ہوش ہو کر ایک گڑھے میں جا گرے۔آپ پر بعض اور صحابہ کی لاشیں آپڑیں جس سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ رسول کریم صلی اللیل کی بھی شہید ہو گئے ہیں۔3 اس وقت تھوڑے بہت سپاہی جو میدان جنگ میں موجود تھے اور زیادہ گھبر اگئے۔اور حضرت عمرؓ تو ایک پتھر کی چٹان پر بیٹھ کر رونے لگ گئے۔اتنے میں وہی مالک جو کہا کرتے تھے کہ اگر میں ہو تا تو دکھاتا کہ کس طرح لڑا کرتے ہیں ٹہلتے ٹہلتے حضرت عمرؓ کے پاس سے گزرے۔جب اس جنگ کے شروع میں اسلام کو فتح ہوئی تھی اس وقت مالک نے یہ سمجھ کر کہ بھگوڑوں کا پیچھا کیا کرنا ہے۔ایک طرف الگ ہو کر کھجوریں کھانی شروع کر دی تھیں کیونکہ انہیں بھوک لگی ہوئی تھی۔چند کھجوریں ان کے پاس تھیں اور وہ ایک پہاڑی کے دامن میں ٹہل ٹہل کر کھجوریں کھا رہے تھے اور آخری کھجور ان کے ہاتھ میں تھی۔جب وہ ٹہلتے ٹہلتے ادھر آئے اور انہوں نے دیکھا کہ عمر ایک پتھر پر بیٹھ کر رورہے ہیں تو انہوں نے کہا عمرا یہ کیا بیوقوفی کی بات ہے ؟ خدا تعالیٰ نے اسلام کو فتح دی اور اسے کفار پر غلبہ عطا فرمایا ہے کیا تمہیں اسلام کے غلبہ پر رونا آتا ہے کہ اس طرح ایک چٹان پر بیٹھ کر آنسو بہارہے ہو ؟ انہوں نے کہا مالک شاید تمہیں پتہ نہیں کہ بعد میں کیا ہوا۔مالک نے کہا کیا ہوا؟ حضرت عمرؓ نے کہا معلوم ہوتا ہے تم فتح کے وقت پیچھے