خطبات محمود (جلد 27) — Page 294
*1946 294 خطبات محمود اچھا کام کر رہا ہے اس سے دوسروں کی ذمہ داری ادا نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے۔اگر کسی شخص کو اس کی ذمہ داری سے آگاہ نہ کیا جائے یاوہ شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کی اہلیت نہ رکھے تو وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عذر کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ مجھ سے اگر غلطی ہوئی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے اپنی ذمہ داریوں کی طرف کسی شخص نے توجہ نہیں دلائی۔یا میری عقل اتنی ناقص تھی کہ میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی اہلیت اپنے اندر نہیں رکھتا تھا۔لیکن تمہارے متعلق یہ بات نہیں کی جاسکتی۔تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ نہیں کیا گیا۔دنیا کا کوئی ذریعہ نہیں جو میں نے باقی چھوڑا ہو۔ہر ذریعہ سے میں نے جماعت کو اس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ہر اہم پہلو میں نے جماعت پر اس کی تمام تفاصیل کے ساتھ واضح کیا ہے اور ہر قربانی کی طرف میں نے اس کو بلایا اور بار بار بلایا ہے۔میں نے جماعت پر اس کی ذمہ داریوں کو مالی لحاظ سے بھی واضح کیا ہے، جانی لحاظ سے بھی واضح کیا ہے، وقت کی قربانی کے لحاظ سے بھی واضح کیا ہے، علم کے لحاظ سے بھی واضح کیا ہے، وطن کے لحاظ سے بھی واضح کیا ہے، سیاست کے لحاظ سے بھی واضح کیا ہے، اقتصاد کے لحاظ سے بھی واضح کیا ہے۔غرض زندگی کا وہ کونسا شعبہ ہے جس کے متعلق میں نے بار بار اور بار بار توجہ نہیں دلائی۔جس کی اہمیت میں نے واضح نہیں کی اور جس کی ضرورت میں نے جماعت پر منکشف نہیں کی۔میں نے ہر پہلو کو اختیار کیا اور ہر ذریعہ جس سے کام لیا جا سکتا تھا اس سے میں نے کام لیا۔تم میں سے کئی ہیں جن کے لئے میرا وجود نجات کا باعث بنا مگر تم میں سے کئی ہیں جن کے لئے میرا وجود عذاب کا بھی باعث ہے کیونکہ تم خدا کے سامنے اپنی کو تاہیوں کے متعلق اب کوئی عذر پیش نہیں کر سکتے۔پس میرا وجود جہاں تم میں سے بہتوں کے لئے ہدایت کا باعث ہے وہاں میرے وجود نے تمہارے لئے کوئی عذر بھی باقی نہیں چھوڑا۔تم اپنی بریت کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے کوئی پہلو بھی تو پیش نہیں کر سکتے اور کسی ایک امر کے متعلق بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں اس کا پتہ نہیں تھا یا اس کا پتہ نہیں تھا۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ مجھے تمہارے سامنے پیش کر دے گا اور کہے گا اس نے تمہیں تمام باتوں سے ہوشیار کر دیا تھا مگر تم پھر بھی ہوشیار نہ ہوئے ، اور تم نے اپنی ذمہ داریوں کا کچھ بھی احساس نہ کیا۔اور تم میں سے بعض کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے بشیر بنا کر بھیجا ہے اور تم