خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 232

*1946 232 خطبات محمود بوجھ ڈالنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔لیکن یہ حیرت کی بات ہے کہ زمینداروں نے اس تحریک میں بہت کم حصہ لیا ہے اور زمینداروں کی نسبت شہریوں نے بہت زیادہ حصہ لیا ہے۔شاید اس لئے کہ شہریوں میں تعلیم زیادہ ہے اور تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے وہ حقیقت کو جلدی سمجھ جاتے ہیں اور انہیں غریبوں کی تکلیف کا بہت احساس ہوتا ہے۔پس میں اس سال زمینداروں کو خصوصا تحریک کرتا ہوں کہ وہ پہلے کی نسبت غریبوں کی زیادہ سے زیادہ امداد کریں۔زمینداروں کے سوا دوسرے دوستوں کو بھی پوری توجہ کے ساتھ اپنی طاقت کے مطابق حصہ لینا چاہئے۔جو لوگ بازار سے گندم خرید کر کھاتے ہیں ان کے لئے میں نے ان کے گھر کے سالانہ خرچ پر چالیس من پر ایک من کا چندہ رکھا ہے۔یعنی جو شخص اپنے گھر کے سالانہ خرچ کے لئے چالیس من گندم خریدے وہ ایک من غرباء کے لئے دے۔اور جو شخص ہیں من خریدے وہ بیس سیر دے۔اور جو شخص دس من خریدے وہ دس سیر دے۔اور اگر وہ سالانہ خرچ کے برابر نہ خریدے تب بھی اسے اپنے ایک سال کے غلہ کے خرچ کے مطابق چالیسواں حصہ دینا چاہئے۔چالیسواں حصہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم چالیس دن میں سے ایک دن اپنے بھائی کے لئے فاقہ کرتے ہو۔کیا یہ بہتر ہے کہ تم چالیس دنوں میں سے ایک دن فاقہ کرو۔یا یہ بہتر ہے کہ تم خود چالیس دن کھاؤ لیکن تمہارا بھائی چالیس دن فاقہ کرے۔میرے نزدیک تمہارا چالیسواں حصہ اپنے غریب بھائیوں کے لئے دینا کوئی قربانی نہیں بلکہ یہ تو لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے کے مترادف ہے۔تم اپنے اس طریق سے خدا تعالیٰ کے غضب کو دور کرو گے۔اس کی رحمت کو اپنی طرف کھینچ سکو گے۔ایک بات میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کی آمد نیاں زیادہ ہوں لیکن ان کو غلے کی ضرورت کم ہو وہ اس بات کا خیال نہ کریں کہ ہم نے چونکہ تھوڑا غلہ خریدا ہے اس لئے ہم اس کا چالیسواں حصہ ہی دیں گے بلکہ ان کو اپنی آمدنی کے مطابق غرباء کے لئے گندم دینی چاہئے۔اسی طرح میں عورتوں پر بھی ذمہ داری ڈالتا ہوں کہ وہ گندم بچانے کی کوشش کریں۔اگر عورتیں گندم بچانے کی کوشش کریں تو بہت کچھ بچا سکتی ہیں۔بعض دفعہ گھر میں پھلکے موجود ہوتے ہیں لیکن خاوند کو خوش کرنے کے لئے عورت کہتی ہے کہ میں ابھی آپ کو