خطبات محمود (جلد 27) — Page 15
*1946 15 خطبات محمود پڑھ پڑھ کر ان کی طرف پھونکیں مارنی شروع کر دیں۔ابھی دو چار گولے ہی پڑے تھے کہ مولوی بھاگ نکلے اور میدان صاف ہو گیا۔واپس آکر کہنے لگے کہ بہت خبیث شیطان معلوم ہوتے ہیں جن پر قرآن بھی اثر نہیں کرتا۔ہماری جماعت کو ہر ایک عظمند تسلیم کرتا ہے اور سب کو یہ اعتراف ہے کہ یہ عقلمندوں کی جماعت ہے۔پھر بھی عقل و شعور رکھتے ہوئے معلوم نہیں کیوں جماعت ان مولویوں کی طرح اپنی جہالت کا ثبوت مہیا کر رہی ہے۔آخر جماعت کو عقلمندی سے کام لینا چاہئے۔جہاں روپے کی ضرورت ہے وہاں ہماری جماعت کو روپیہ دینا پڑے گا، جہاں آدمیوں کی ضرورت ہے وہاں ہماری جماعت کو آدمی پیدا کرنے ہوں گے۔روس کو دیکھو۔انہیں آدمیوں کی ضرورت تھی۔جنگ سے پہلے روس کی آبادی سترہ کروڑ تھی۔اڑھائی کروڑ کی آبادی انہوں نے بھی چیز خدا دی نہ دھیلے دی نہ پادی“ کے مقولہ کے مطابق مختلف علاقوں پر قبضہ کر کے بڑھالی۔یہ نہیں کروڑ ہو گئے۔جنگ میں اس کے ایک کروڑ کے قریب لوگ مر گئے لیکن پانچ کروڑ کی نئی نسل انہوں نے پیدا کر لی ہے اور اب روس کی آبادی کا اندازہ 24، 25 کروڑ کا ہے۔گویا ایک کروڑ آدمی کے مرنے کے باوجود بھی انہوں نے اپنے ملک کی آبادی بڑھالی ہے۔یہ زندہ قوموں کی علامت ہے۔بعض لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ بچے ہوں تو خرچ کس طرح چلے گا اس لئے نسل کم کی جائے لیکن زندہ قومیں اس کی پروا نہیں کرتیں۔وہ کہتے ہیں ہمیں آدمیوں کی ضرورت ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کمی کو پورا کریں۔اسی طرح اگر تعلیم یافتہ آدمیوں کی ضرورت ہو تو پھر وہ اس کمی کو پورا کرتی ہیں۔اگر تجارت اور صنعت و حرفت کی ضرورت ہو تو اس طرف متوجہ ہو جاتی ہیں۔غرض جس چیز کی بھی ضرورت ہو زندہ قومیں فوراً اس طرف متوجہ ہو کر اس کمی کو پورا کر لیتی ہیں۔اور در حقیقت بیداری کے معنے یہی ہیں کہ جہاں کہیں سوراخ ہو اس کو بند کر دیا جائے۔مگر یہاں یہ حالت ہے کہ استاد کہتے ہیں، والدین اس طرف متوجہ نہیں ہوتے اور والدین کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے لڑکے ان کو سونپ دیئے ہیں اب ان کا فرض ہے کہ وہ ان کی اصلاح کریں۔اور والدین کا یہ کہنا ایک حد تک صحیح بھی ہے کیونکہ انہوں نے اپنی اولاد ان کے سپر د کر دی ہے۔اب استادوں کا کام ہے کہ ان کی طرف متوجہ ہوں اور ان کی اصلاح کریں۔اگر ان کی اصلاح نہیں ہوئی اور