خطبات محمود (جلد 27) — Page 14
*1946 14 خطبات محمود والدین کو اس طرف متوجہ کرتے اور ان کو مجبور کرتے کہ وہ تعلیم کو اچھی طرح حاصل کریں۔ہماری جماعت کے لئے اعلیٰ تعلیم کا حصول اب نہایت ضروری ہے۔اگر ہم میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ ہوں گے تو ساری سکیم فیل ہو جائے گی کیونکہ کام پر کام نکل رہے ہیں جس کی وجہ سے مانگ پر مانگ آرہی ہے۔صنعت و حرفت کا محکمہ ہے۔اس کے ماتحت محکمہ والے نئی نئی سکیمیں بنا کر لاتے ہیں۔میں کہتا ہوں اس کے لئے آدمی لاؤ مگر چونکہ آدمی نہیں ہوتے اس لئے سکیم رہ جاتی ہے۔اگر پچاس سکیموں کے چلانے کا اس وقت موقع ہوتا ہے تو آدمیوں کی قلت کی وجہ سے بمشکل ایک یا دو سکیمیں چلتی ہیں اور اس طرح ایک دن کا کام ہیں پچیس دن میں ہوتا ہے۔پس ہمیں آدمیوں کی ضرورت ہے اور آدمیوں کی ضرورت کا ایک حصہ ماں باپ پورا کر سکتے ہیں اور دوسراحصہ سکول اور کالج کے لوگ پورا کر سکتے ہیں۔جامعہ احمدیہ ، مدرسہ احمدیہ اور دوسرے باہر کے احمد یہ مدارس اس حصہ کو پورا کر سکتے ہیں۔بشر طیکہ وہ صحیح رنگ میں کوشش کریں اور اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ہمیں سوچنا چاہئے کہ اگر آدمی نہ ملے تو لڑائی کس طرح لڑی جاسکتی ہے۔آخر یہ تو بات نہیں کہ پھونکیں مارنے سے کام ہو جائے گا۔ہماری جماعت کی موجودہ حالت میں آدمیوں کے نہ ملنے کی وجہ سے ویسی ہی مثال ہے جیسے بخارا میں مولویوں نے کیا۔جب روس نے بخارا پر حملہ کیا تو مولویوں نے یہ فتویٰ دے دیا کہ آگ سے عذاب دینا منع ہے اور چونکہ تو پوں میں آگ استعمال ہوتی ہے اور بندوقوں میں بھی۔اس لئے جو شخص توپ اور بندوق استعمال کرے گا وہ کافر ہو جائے گا۔اس وجہ سے بخارا والوں نے ان کے مقابل پر تو ہیں اور بندوقیں نہ بنائیں۔جب روس نے حملہ کر دیا تو چونکہ بخارا والے تو ہیں اور بندوقیں نہیں چلا سکتے تھے اس لئے وہ تلواریں اور نیزے لے کر میدانِ جنگ میں ان کے مقابل پر آئے۔ان کے میدانِ جنگ میں آنے پر تو پیچیوں نے گولے برسانے شروع کر دیئے۔بھلا توپ کے آگے تلوار کا کیا کام۔دو تین گولوں سے ہی کئی آدمی مارے گئے اور باقی سب ڈر کر بھاگ آئے اور انہوں نے علماء کو کہا کہ وہ تو قابو نہیں آتے ، بہت سخت ہیں۔علماء نے کہا اچھا ہم وہ آلے لے کر جن سے بکریوں کے لئے پتے جھاڑے جاتے ہیں جائیں گے اور کافروں کے پاؤں میں ڈال ڈال کر ان کو کھینچیں گے۔چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے قرآن کریم کی آیتیں۔