خطبات محمود (جلد 27) — Page 220
*1946 220 خطبات محمود اشارہ کرتے ہوئے اپنے سر کو نیچے جھکا دیا۔اس کا سر جھکانا تھا کہ پھر دو سپاہی گرے اور گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔فلپ اس نظارہ سے ایسامر عوب ہوا کہ اس کا دل گھٹنے لگا اور اس نے کہا میں اس وقت بیٹھ نہیں سکتا پھر کسی وقت آپ کی ملاقات کے لئے آؤں گا۔یہ وہ لوگ تھے جن کے دلوں میں ایمان نہیں تھا محض ایک بناوٹ تھی اور اسلام کے اندر رخنہ ڈالنے کے لئے شیطانی تدابیر سے انہوں نے ایک جماعت قائم کی تھی مگر ان لوگوں کے اندر بھی اتنا جوش تھا کہ اپنے امام کے ایک اشارہ پر وہ اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔کیا ایک احمدی کو اس سے کم قربانی دکھا کر اپنے دعویٰ ایمان کو ثابت کرنے کا یقین ہو سکتا ہے؟ اگر قرامطہ صرف فلپ کو یقین دلانے کے لئے اپنی جانیں دے سکتے ہیں تو کیا ہم اسلام کو بچانے کے لئے اس سے زیادہ جوش اور اخلاص کے ساتھ اپنی جانیں نہیں دے سکتے ؟ بہر حال اب فرانس میں بھی ہمارے مبلغ جارہے ہیں۔پچھلے مہینے اٹلی میں ہمارا مشن قائم ہوا تھا اس مہینہ فرانس میں قائم ہو گیا اور خدا تعالیٰ چاہے تو ہالینڈ میں بھی قائم ہو جائے گا۔پھر سپین اور دوسرے ممالک میں ہمارے مبلغین جائیں گے اور ہر ملک جہاں ہمارے مبلغ جائیں گے وہاں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے مانگ آنی شروع ہو جائے گی۔اس وقت سب سے زیادہ مانگ جہاں سے آرہی ہے اور جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ کچھ عرصہ تک یہ مانگ برابر بڑھتی چلی جائے گی وہ افریقہ کا ملک ہے۔وہاں ترقی کے ایسے سامان پید اہو رہے ہیں کہ جو اندازہ ہم کرتے ہیں وہ غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ابھی ہمارے نئے مبلغوں کے جانے پر وہاں سے رپورٹ آئی ہے کہ ان مبلغین کو ایسے علاقوں میں بھجوایا جارہا ہے جہاں احمدی تو دیر سے موجود تھے مگر ان میں کوئی تنظیم نہیں تھی۔ایسے ہی ایک علاقہ میں ہمارے ایک مبلغ مولوی عبد الخالق صاحب روانہ کئے گئے ہیں۔گولڈ کوسٹ کے ملک میں جہاں کے علاقہ کی رپورٹ ہے دو بڑی قومیں ہیں ایک اشانٹی اور دوسری فینٹی۔جہاں تک لڑائی جھگڑے اور طاقت کا سوال ہے اشانٹی والے زیادہ مضبوط ہیں اور فینٹی قوم کے لوگ کمزور ہیں۔جب بھی کوئی لڑائی ہوتی ہے انشانٹی قوم والے جیت جاتے ہیں اور فینٹی قوم والے ہار جاتے ہیں۔ہماری جماعت کا مرکز فینٹی قوم میں ہے اور مرکزی انجمن میں بھی زیادہ تر اسی قوم کے لوگ شامل ہیں۔