خطبات محمود (جلد 27) — Page 219
*1946 219 خطبات محمود اور چاہا کہ سلطان صلاح الدین کے خلاف فلپ کے ساتھ مل جائیں اور اس کو شکست دینے کی کوشش کریں۔انہوں نے خیال کیا کہ اس کو شکست دینے کے بعد ہمارا علاقہ اور ہمارا اثر اور زیادہ وسیع ہو جائے گا۔چنانچہ انہوں نے آپس میں معاہدہ کیا اور آخری شرطیں طے کرنے کے لئے فلپ اور قرامطہ کا امام دونوں ایک پوشیدہ پہاڑی مقام پر جمع ہوئے۔وہ قرامطہ کا ہی ایک قلعہ تھا جس میں فلپ قرامطہ کے امام سے ملنے کے لئے آیا۔جب دونوں اکٹھے ہوئے تو فلپ نے قرامطہ کے امام سے کہا آپ کو پتہ ہے میں فرانس کا بادشاہ ہوں اور اپنے ساتھ بہت بڑی فوجیں رکھتا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ آپ کے پاس کتنی طاقت ہے جس کے ذریعہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو شکست دینے میں آپ میری مدد کر سکتے ہیں۔چونکہ ہم اس وقت آپس میں معاہدہ کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں اس لئے مجھے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ آپ میں کتنی طاقت ہے۔قرامطہ کے امام جس محل میں بیٹھے ہوئے تھے اس کے چاروں طرف جیسے بورڈنگ تحریک جدید کی عمارت ہے اس طرز کی عمارت تھی۔کئی منزلہ مکانات تھے اور ہر منزل پر کھڑکیوں اور دروازوں کے چھجوں پر ننگی تلواریں لئے سپاہی پہرہ دے رہے تھے گویا نیچے سے اوپر تک جس قدر منزلیں تھیں ان میں سے ہر منزل کے ہر دروازے اور ہر کھٹڑ کی کے آگے ایک ایک چھجہ تھا اور ہر چھجہ پر ایک ایک سپاہی ننگی تلوار لئے کھڑا تھا۔جب فلپ نے کہا میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ کی کیا طاقت ہے اور آپ میری کتنی مدد کر سکتے ہیں تو قرامطہ کے امام نے کہا آپ میری طاقت دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ کہہ کر اس نے اوپر آنکھ اٹھائی اور دو سپاہیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو اوپر کی منزل پر پہرہ دے رہے تھے اپنے سر کو نیچے جھکا دیا۔اس کا اپنے سر کو نیچے جھکانا تھا کہ ان دونوں سپاہیوں نے نیچے چھلانگ لگادی اور گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔فلپ نے یہ نظارہ دیکھا تو قرامطہ کے امام نے کہا شاید آپ کو خیال ہو کہ ان لوگوں کو پتہ نہیں تھا کہ نیچے گرنے کا کیا نتیجہ ہو گا اور انہوں نے شاید نادانی سے موت قبول کر لی۔اگر ان کو علم ہو تا کہ ہم نیچے گر کر ہلاک ہو جائیں گے تو ایسا نہ کرتے۔میں اس شبہ کا بھی ازالہ کرنا چاہتا ہوں اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کو میری ذات سے کتنا اخلاص ہے۔یہ کہہ کر اس نے پھر اوپر کی ایک کھڑکی کی طرف اپنی آنکھ اٹھائی اور دو سپاہیوں کی طرف