خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 218

*1946 218 خطبات محمود جرمنی بھجوا دیا جائے گا۔مگر یہ کہنا تو آسان ہے لیکن نئے مبلغین کا مہیا کرنا کوئی آسان کام نہیں۔پھر یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نئے مبلغ کہاں سے آئیں گے ؟ اگر ہمارے نوجوانوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر دین کی بھٹی میں گر کر جل جانے کی خواہش پیدا نہیں ہو گی اور اگر وہ یکے بعد دیگرے اس جہاد کے میدان میں اس طرح کودتے ہوئے نہیں چلے جاتے کہ ہر شخص کو یہ محسوس ہو کہ ان کے نزدیک موت اور حیات بالکل یکساں چیز ہے تو یہ کام کبھی سر انجام نہیں دیا جاسکتا۔دیکھو کفر کے لئے بھی لوگوں نے جو قربانیاں کی ہیں وہ کچھ کم نہیں۔جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی تمام یورپین ممالک سے لڑائی کر رہا تھا، جس وقت جرمنی اور انگلستان اور فرانس اور آسٹریا اور اٹلی اور یونان وغیرہ سارے ملکوں کی فوجیں شام میں جمع ہو گئیں اور اکیلے صلاح الدین ایوبی پر حملہ کر رہی تھیں۔جس کا ملک اتنا ہی تھا جتنی ہندوستان کی ایک ریاست ہوتی ہے مگر وہ انسان اپنی جانوں پر کھیل جانے والے تھے۔وہ انسان ایمان کی خاطر ہر قسم کی قربانی کرنے والے تھے۔ایک تن تنہا چھوٹی سی ریاست پر سارے یورپ کی فوجوں نے حملہ کر دیا اور صرف یورپین فوجیں ہی نہیں بلکہ یورپ کے بادشاہ بھی وہاں چلے گئے اور انہوں نے چاہا کہ وہ سب متحد ہو کر اسلام کو کچل ڈالیں۔انگلستان کا بادشاہ رچرڈ 3 اور فرانس کا بادشاہ فلپ بھی وہاں جا پہنچا۔اسی طرح جرمنی، آسٹریلیا، اٹلی اور یونان وغیرہ کے سب گرینڈ ڈیوک (Grand Duke) بھی وہاں جا پہنچے۔انگلستان کا بادشاہ چاہتا تھا کہ یہ فتح میرے نام پر ہو اور فرانس کا بادشاہ چاہتا تھا کہ یہ فتح اس کے نام پر لکھی جائے لیکن خدا چاہتا تھا کہ یہ فتح صلاح الدین ایوبی کے نام پر لکھی جائے اور آخر وہی ہوا جو ہمارے خدا نے چاہا۔یورپ کی فوجیں شکست کھا کر واپس لوٹیں اور وہ اپنے ارادوں میں بری طرح ناکام رہیں۔یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ان ایام میں جب فلپ نے دیکھا کہ رچرڈ کا زور بڑھتا چلا جا رہا ہے تو اس نے اپنی طاقت کو مضبوط کرنے کے لئے قرامطہ کے بادشاہ سے سمجھوتہ کیا کہ ہم دونوں مل کر سلطان صلاح الدین ایوبی کو شکست دینے کی کوشش کریں۔چونکہ سلطان صلاح الدین ایوبی سنتی بادشاہ تھا اور قرامطہ شیعوں میں سے ایک بگڑی ہوئی قوم تھی جو مصر کے فاطمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا