خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 213

*1946 213 خطبات محمود لئے چندہ دیتے رہنا یہی بڑا کام ہے۔یہ دوسرا شیطان ہوا۔تیسرا: شیطان باپ ہوتا ہے جو اپنے بچے سے کہتا ہے کہ دیکھو میاں! میں نے تمہیں اتنا عرصہ تعلیم دلائی ہے اب میرے لئے گزارہ کی کوئی صورت نہیں۔تمہارا کام یہ ہے کہ کماؤ اور میرے گزارہ کا بندوبست کرو۔چو تھی: شیطان ماں ہوتی ہے۔جس وقت وہ تمام شیطانوں کو مار کر یہ سمجھتا ہے کہ میں ہر قسم کے شیطانی جال سے آزاد ہو گیا ہوں اُس وقت ماں کے آنسو اس کو پھر اسی شیطان کی بغل میں بٹھا دیتے ہیں۔جب وہ روتے ہوئے کہتی ہے کہ بیٹا میں کیا کروں گی تو ماں کی میں اس کی ساری انانیت اور جرآت اور بہادری کو کچل کر رکھ دیتی ہے۔مگر باوجود ان چار شیطانوں کے بہت سے نوجوان ہیں جو ان کے پھندوں سے آزاد ہو کر خدا تعالیٰ کی فوج میں شامل ہو گئے ہیں اور در حقیقت یہی وہ لوگ ہیں جو جماعت کی بنیاد قرار دیئے جاسکتے ہیں۔مجھے حیرت آتی ہے جب میں کورل آئی لینڈز (Coral Islands) کی حقیقت پر غور کرتا ہوں۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ کورل آئی لینڈ ز کیڑوں کی موت کے نتیجہ میں تیار ہوئے ہیں۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسر ا کیڑ امر تا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ ایک جزیرہ بن جاتا ہے جس میں انسان بود و باش اختیار کرتا ہے۔اگر ایک کیڑے میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ میں مرکر دنیا میں کوئی کام کر جاؤں اور اپنے وجود سے ایک ایسی بنیاد قائم کر دوں جو سینکڑوں سال تک لوگوں کے کام آتی چلی جائے تو کیسا ذلیل اور ناپاک وہ انسان ہے جو یہ خواہش نہیں رکھتا کہ میں اگر مرتا ہوں تو بے شک مر جاؤں لیکن میں ایک ایسی بنیاد قائم کر جاؤں جو اس زندگی سے ہزاروں درجے بہتر ہے جو بیکاری میں بسر ہوتی ہے، یا بے دینی اور عیاشی میں گزر جاتی ہے۔کیسا شاندار وہ فقرہ ہے جو ہندوستان کے ایک مسلمان بادشاہ کے منہ سے نکلا۔میں سمجھتا ہوں سترھویں صدی کے آخری حصہ اور اٹھارھویں صدی کے ابتدائی حصہ میں ہندوستان کے تمام مسلمان بادشاہوں میں سے صرف وہی ایک بادشاہ تھا جو غیرت مند تھا۔باقی سارے مسلمان بادشاہ (خواہ مسلمان لیڈر اور مسلمان اخبارات مجھے کتنا ہی بُرا بھلا کہیں) ایسے ہی تھے جنہوں نے موقع پر غداری اور بے غیرتی کا مظاہرہ کیا۔خواہ وہ