خطبات محمود (جلد 27) — Page 212
*1946 212 خطبات محمود اور ایسی صورت ہو جائے گی جیسے ہمارا ایک مشنری ملتان میں ہو اور ایک دہلی میں۔ملتان اور دہلی میں جو فاصلہ ہے ویسا ہی فاصلہ ان نو مشنوں میں ہو گا جو امریکہ میں قائم کئے جائیں گے لیکن یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب تمام مشن قائم کر دیئے جائیں۔اگر امریکہ میں ہمارے نو مشن ہوں اور ہر مشن میں چھ مشنری کام کر رہے ہوں تو چون مشنریوں کی ہمیں صرف امریکہ کے لئے ضرورت ہو گی۔اگر اس طرح ہم اپنے مشن وہاں قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہماری آواز کا امریکہ میں پہنچ جانا ممکن ہو سکتا ہے۔گو یقینی پھر بھی نہیں ہو گا کیونکہ کروڑوں کی آبادی ہے۔لیکن بہر حال اگر سامان اور ذرائع ہمیں میسر آجائیں تو ہم اپنی آواز ان نو مشمنوں کے ذریعہ سے تمام امریکہ تک پہنچا سکتے ہیں لیکن یہ صرف ایک ملک کا معاملہ ہے۔اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک ملک کی تبلیغ کے لئے بھی پورے سامان نہیں۔میں نے متواتر اور مسلسل جماعت کو ان امور کی طرف توجہ دلائی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک جماعت کے ایک طبقہ میں اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کا پورا احساس پیدا نہیں ہوا۔اس وقت یہاں (مسجد اقصیٰ میں) چار ہزار سے اوپر احمدی موجود ہیں۔اگر چار ہزار احمدی مردوں میں ہی بیداری پیدا ہو جائے تو کیا یہ چار ہزار احمدی یہ سامان مہیا نہیں کر سکتے ؟ اسی طرح قادیان میں اس وقت تین ہزار سے اوپر مرد عورت طالب علم موجود ہیں۔اگر تین ہزار طالب علموں کے اندر ہی دین کی خدمت کا احساس پیدا ہو جائے اور وہ دنیا کی خواہشوں اور کشتوں کو نظر انداز کر دیں تو کیا چند سالوں کے اندر اندر یہ تین ہزار طالب علم ہی ہمارے لئے مبلغوں کی ایک معقول تعداد بہم نہیں پہنچا سکتے ؟ یقینا مہیا کر سکتے ہیں لیکن چار مشکلات ہیں جو اس راستہ میں حائل ہیں۔اول: طالب علم خود ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس میں دنیا کا غلبہ اور دنیا طلبی کا مرض بہت وسیع ہو گیا ہے۔دوم: اساتذہ میں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جو ان کو ورغلا تارہتا ہے اور کہتا ہے کہ تبلیغ کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے کی کیا ضرورت ہے۔بعد میں ملازمت اختیار کر کے تبلیغ کے