خطبات محمود (جلد 27) — Page 211
*1946 211 خطبات محمود تو بتا دینا میں اُڑ جاؤں گا۔بیل نے اسے کہا مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ تم میرے سینگ پر بیٹھے کب تھے۔یہی حال وہاں کی تبلیغ کا ہے۔اگر ہم امریکہ کے لوگوں سے کہیں کہ بتاؤ ہماری تبلیغ کا وہاں کتنازور ہے ؟ تو وہ جائز اور صحیح طور پر کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کا کوئی مبلغ ہمارے ہاں کام کر رہا ہے۔آخر دو ہزار میل کا فاصلہ کوئی معمولی فاصلہ نہیں ہو تا۔یہاں سے دو ہزار میل کے فاصلہ پر مکہ مکرمہ ہے۔مگر کیا اس جگہ کے کسی مولوی کا ہمیں پتہ لگ سکتا ہے حالانکہ مکہ مکرمہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں حج کے لئے اکثر لوگ آتے جاتے ہیں۔لیکن شکاگو کی طرف تو کسی کا جانا ضروری نہیں۔وہ حج کا مقام نہیں ہے کہ امریکہ کے لوگ وہاں اکثر آتے جاتے ہوں۔ایسی صورت میں بہر حال ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم پے در پنے اپنے علماء اور مبلغین کو امریکہ میں بھجوائیں اور تبلیغ کو صحیح پیمانہ پر وسیع کریں۔فی الحال میری سکیم کے مطابق تین آدمی امریکہ کے لئے مقرر ہو چکے ہیں۔ایک دوست پہنچ چکے ہیں، ایک دوست کا پاسپورٹ مکمل ہو چکا ہے لیکن امریکن گورنمنٹ کا ویزا ابھی نہیں ملا ہے اور جب تک ویزا نہ ملے اس وقت تک اطمینان نہیں ہو سکتا۔اور ایک کا پاسپورٹ ابھی تیار ہونے والا ہے۔لیکن یہ تینوں مبلغ اگر وہاں پہنچ بھی جائیں تب بھی اس شہر کے لئے کافی نہیں ہو سکتے۔ہمیں امریکہ جیسے ملک کے لئے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہو گی لیکن کم سے کم مشن جن کا میرے نزدیک امریکہ میں قائم کرنا نہایت ضروری ہے نو ہیں۔امریکہ کا مغربی ساحل قریباً دو ہزار میل لمبا ہے۔اس ساحل پر ہمیں تین مرکز قام کرنے چاہئیں۔ایک مرکز شمال میں ہو، ایک مرکز وسط میں اور ایک مرکز جنوب میں۔اسی طرح مشرق میں ہمارا ایک مرکز شمال میں ہو، ایک مرکز وسط میں ہو اور ایک جنوب میں۔وسطی امریکہ کے شمالی حصہ میں شکاگو میں ہمارا پہلے سے مرکز ہے۔لیکن اس کے علاوہ ہمیں اس علاقہ میں بھی دو اور مرکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ایک مرکز وسطی وسط میں ہو اور ایک مرکز وسطی جنوب میں۔اگر ہم امریکہ میں نو مرکز قائم کر دیں تب ہمارے یہ تبلیغی مراکز ایسے ہوں گے جو ایک ایک ہزار میل کے فاصلہ پر آسکیں گے یا دونوں جہات کو مد نظر رکھتے ہوئے پانچ پانچ سو میل کے فاصلہ پر آسکیں گے خطبہ کے بعد معلوم ہوا کہ ویزامل چکا ہے۔