خطبات محمود (جلد 27) — Page 194
خطبات محمود 194 *1946 پھر یہ زمانہ سٹرائیکوں کا ہے۔جتھے بنا بنا کر حکومتوں کے خلاف کھڑے ہو جانا یا مالکوں اور کار خانہ داروں اور اُستادوں وغیرہ سے اپنے مطالبات منوانے کے لئے سٹرائیک (Strike) کر دینا ایک عام بات ہے اور اسے اپنے مطالبات منوانے کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سٹرائیک سے بھی منع فرما دیا۔گویا یہ جماعت جو دنیا میں ترقی کرنے والی تھی اس کے خلاف بھی حکم دے دیا۔مگر باوجو داس کے ہماری جماعت میں کثرت سے طلباء داخل ہوتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی نسبت ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے حالانکہ سٹرائیکوں میں طلباء کا ہی زیادہ تر دخل ہوتا ہے۔اس طرح مزدور پیشہ لوگ بھی ہماری جماعت میں داخل ہوتے ہیں حالانکہ ان کے خلاف حکم دیا گیا تھا۔انہوں نے اس وجہ سے بڑی بڑی تکالیف بھی اٹھائیں اور ہمیشہ اٹھاتے رہتے ہیں مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتے۔ابھی گزشتہ دنوں نیوی کی بغاوت ہوئی ہے۔اس میں احمدیوں کو مارا گیا، پیٹا گیا اور انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ بھی سٹرائیک میں حصہ لیں مگر وہ اڑے رہے اور انہوں نے کہا کہ ہم سٹرائیک میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ ہماری جماعت کے یہی احکام ہیں۔غرض جتنی تحریکیں اس زمانہ میں چل رہی ہیں ان ساری تحریکوں کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وعظ فرمایا۔لیکن باوجو داس کے ایک یہاں سے ایک وہاں سے ایک اس ملک سے اور ایک اُس ملک سے ، ایک اس طبقہ سے اور ایک اُس طبقہ سے، ایک اس جماعت سے اور ایک اُس جماعت سے ہماری طرف کھینچا چلا آیا اور یہ جماعت برابر اپنا قدم آگے ہی آگے بڑھاتی چلی گئی۔دنیا کی کوئی مخالفت اس کو زیر نہیں کر سکی۔نہ علماء کی مخالفت اس کو زیر کر سکی ہے نہ فقہاء کی مخالفت اس کو زیر کر سکی ہے۔نہ فلسفیوں کی مخالفت اس کو زیر کر سکی ہے ، نہ پروفیسروں کی مخالفت اس کو زیر کر سکی ہے۔نہ گورنمنٹ کی مخالفت اس کو زیر کر سکی ہے۔نہ رعایا کی مخالفت اس کو زیر کر سکی ہے۔نہ قوموں کی مخالفت اس کو زیر کر سکی ہے اور نہ مذہبوں کی مخالفت اس کو زیر کر سکی ہے۔ہر جگہ ہم ٹکرائے اور ہر جگہ ہمارے خیر خواہوں نے ہم کو مشورہ دیا کہ فلاں مسئلہ جو آپ بیان کرتے ہیں اسے ترک کر دیں کیونکہ طبائع میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔یا فلاں تحریک جو آپ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ