خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 195

*1946 195 خطبات محمود نہایت خطرناک نکلے گا۔لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے ان باتوں کو نظر انداز کر دیا، پھینک دیا اور رڈ کر دیا اور صرف ایک بات کو سامنے رکھا کہ جو کچھ خدا کا حکم ہے اس کو ہم اپنے مد نظر رکھیں گے، چاہے ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ کاٹ کر پھینک دیا جائے۔جب ہم خدا کے حکم کے ماتحت یہ سمجھتے ہوئے کہ اگر خدا نے ہمیں دوزخ میں گرنے کا حکم دیا ہے تو یہ دوزخ ہی ہمارے لئے جنت ہے۔اپنے آرام اور اپنی آسائش اور اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے ہم اس دوزخ میں گر گئے۔تو ہم نے دیکھا کہ دوسرے لوگ تو تبتی ہوئی ریتوں پر پڑے سسک رہے ہیں اور ہم جنہوں نے ایک نظر آنے والے دوزخ میں اپنے آپ کو گرایا تھا ہم نے اپنے آپ کو ایک سر سبز و شاداب اور ٹھنڈے گلستان میں پایا۔پس فرماتا ہے ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا تمہاری ترقیات جس قدر ہوں گی انسانی تدابیر سے باہر ہوں گی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تدبیر مادی نہیں کی جائے گی بلکہ مطلب یہ ہے کہ تدبیر مادی کے سامان بھی خد اتعالیٰ خود مہیا کرے گا تم نہیں کرو گے۔غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں ترقی دے کر اب ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے کہ دنیا ہماری طاقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گی اور ہمارے لئے اس مقام کے حصول میں اب بہت تھوڑی دیر باقی ہے۔جیسا کہ پچھلے سال ستمبر کے ایک خطبہ میں میں نے بیان کیا تھا اب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جسے ٹرننگ پوائنٹ (Turning Point) کہتے ہیں۔یا ہماری مثال ویسی ہی ہے جیسے کسی عورت کے ہاں جلد ہی بچہ پیدا ہونے والا ہو۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے قریب ترین عرصہ میں وہ وقت آنے والا ہے کہ دنیا ہماری جماعت کو ایک مستقل جماعت اور باقاعدہ جماعت تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔اور ہمارا وجو د اس بات کا ثبوت ہو گا کہ محمد رسول الله صلى ال کلام کو خدا تعالیٰ نے ایک سایہ دار درخت بنایا ہے۔جو سایہ قرآن کریم کی اس پیشگوئی کے ماتحت کہ اَلَمْ تَرَ إِلَى رَبَّكَ كَيْفَ مَنَ الظَّل دنیا میں روز بروز بڑھتا چلا جائے گا۔ورنہ اگر محمد رسول اللہ صلی الل نام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتے تو وَ لَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنَّا کیا خد اتعالیٰ میں یہ طاقت نہیں تھی کہ وہ اس کو ساکن کر دیتا۔اگر اس سایہ کے بڑھانے میں انسانی تدابیر کام کر رہی ہو تیں خدا تعالیٰ کا اس سلسلہ میں کوئی دخل نہیں تھا تو چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ اس کو