خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 187

*1946 187 خطبات محمود اور گریجوایٹ ہوں، اسی طرح وہ گریجوایٹ اور مولوی فاضل جو اس سال امتحان دینے والے ہوں ان سب کو چاہئے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔اگر پچھلے سالوں کے مولوی فاضل اور گریجوایٹ اور کچھ ایسے مولوی فاضل اور گریجوایٹ ہمیں مل جائیں جو اس سال امتحان دینے والے ہوں تو ہم ان سب کو تیار کر کے اس دن کا انتظار کر سکتے ہیں جس دن ہمیں زیادہ شان اور زیادہ زور کے ساتھ دشمن پر دھاوا بولنا پڑے گا۔آخر یہ کام نہ چند روپوں کا ہے نہ چند افراد کا ہے۔جس طرح جرمنوں اور انگریزوں کی جنگ میں کئی کروڑ فوجی شامل ہوئے تھے اسی طرح اس روحانی جنگ میں بھی ہمیں کروڑوں افراد دھکیلنے پڑیں گے۔بے شک ہماری موجودہ حالت ایسی نہیں کہ ہم اس جنگ میں کروڑوں افراد دھکیل سکیں لیکن ہمیں کام تو ایسے رنگ میں کرنا چاہئے کہ ایک دن کروڑوں تک پہنچ جانے کی امید کی جاسکے۔بہر حال جب تک وہ دن نہیں آتا ہمارا فرض ہے کہ ہمارے پاس موجودہ وقت میں جو انتہائی طاقت ہے اسے صرف کر دیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور سر خرو ہو جائیں۔اگر ہم اس وقت اپنی انتہائی طاقت خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لئے صرف کر دیں گے تو ہماری یہ انتہائی طاقت اس بات کی ضامن ہو گی کہ جس دن ہمارے پاس کروڑوں افراد آئیں، اس دن ہم اپنے کروڑوں افراد بھی اس خدمت کے لئے پیش کر دیں گے اور اس میں ایک لمحہ کا بھی تامل نہیں کریں گے۔دنیا محض الفاظ پر تسلی نہیں پاسکتی۔وہ ہمارے عمل کو دیکھتی اور اس سے نتائج اخذ کرتی ہے۔اگر ہم اپنے اندر جنون کا رنگ پیدا کر کے دنیا کو دکھا دیں گے اور اگر ہم پاگلوں کی طرح ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بیتاب پھر رہے ہوں گے تو ان کی روح مطمئن ہو گی۔وہ تسلی سے بیٹھ جائیں گے اور کہیں گے انہوں نے اپنے دل نکال کر ہماری طرف پھینک دیئے ہیں، انہوں نے اپنے جگر نکال کر ہماری طرف پھینک دیئے ہیں، انہوں نے اپنی انتڑیاں نکال کر ہماری طرف پھینک دی ہیں۔اس سے زیادہ قربانی کی ہم ان سے امید نہیں کر سکتے۔یہ ایک ایسا خوشکن احساس ہو گا جس کے ماتحت وہ تسلی سے بیٹھ جائیں گے اور انہیں ہمارے متعلق کوئی شکوہ پیدا نہیں ہو گا۔لیکن اگر وہ دیکھیں گے کہ ہم آرام سے بیٹھے ہیں اور ان کی ضروریات پورا کرنے کا ہمیں کوئی فکر نہیں۔تو لازماً دو صورتوں میں سے ایک صورت