خطبات محمود (جلد 27) — Page 186
*1946 186 خطبات محمود داخل کیا جائے گا تاکہ ان کو جلد سے جلد دین کی خدمت کے لئے تیار کیا جا سکے۔جب یہ نوجوان تعلیم حاصل کر لیں گے تو ہم اس دن کا انتظار کریں گے جب باہر سے مطالبات آئیں اور ہم ان کو بیرونی ممالک میں اعلائے کلمہ اسلام کے لئے بھجواسکیں۔لیکن اس کے علاوہ ہمیں فوری طور پر بھی ایسے گریجوایٹوں اور مولوی فاضلوں کی ضرورت ہے جن کو قلیل سے قلیل عرصہ میں کاموں پر لگایا جا سکے۔اس وقت ہمیں کئی قسم کے کارکنان کی ضرورت ہے مگر آدمیوں کی قلت کی وجہ سے ہمارے بہت سے کام ادھورے پڑے ہوئے ہیں۔اگر مولوی فاضل یا گریجوایٹ ہمیں مل جائیں تو ہم اس قسم کی ضروریات کو آسانی کے ساتھ پورا کر سکتے ہیں۔پس میں آج کے خطبہ کے ذریعہ ایک دفعہ پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اس وقت ہماری بیچارگی حد سے بڑھی ہوئی ہے اور ہماری حالت اُحد کے ان مردوں کی طرح ہو رہی ہے جن کے کفن کے لئے اتنا تھوڑا کپڑا تھا کہ اگر ان کے سر ڈھانکتے تھے تو پیر ننگے ہو جاتے تھے اور اگر پیر ڈھانکتے تھے تو سر ننگے ہو جاتے تھے۔ہم ایک جگہ اپنا مبلغ بھجواتے ہیں تو دوسری جگہ کی مانگ کو پورا نہیں کر سکتے۔دوسری جگہ کی مانگ کو پورا کرتے ہیں تو پہلی طرف سے ہمیں غافل رہنا پڑتا ہے۔پس آج انتہائی ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ نوجوان جو مولوی فاضل یا گریجوایٹ ہیں اپنے آپ کو خدمت سلسلہ کے لئے پیش کریں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بہت سے مولوی فاضل اور گریجوایٹ اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ پھر بھی ابھی بعض مولوی فاضل اور گریجوایٹ چھپے بیٹھے ہوں اور انہوں نے اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش نہ کیا ہو۔کہتے ہیں جب مرتبان میں سے دوائی ختم ہو جاتی ہے تو تلاش کرنے سے اس کے کونوں میں سے کچھ نہ کچھ نکل آیا کرتی ہے۔پس بے شک بہت سے گریجوایٹ اور مولوی فاضل جو ہماری جماعت میں پائے جاتے تھے اور جو اس کام کے لئے فارغ ہو سکتے تھے ختم ہو چکے ہیں اور اب ایک دو سال تک ہمیں نئے گریجوایٹوں اور مولوی فاضلوں کا انتظار کرنا ہو گا۔لیکن پھر بھی ممکن ہے کہ ابھی بعض گریجوایٹ اور مولوی فاضل رہتے ہوں جنہوں نے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش نہ کیا ہو۔اور کچھ ایسے گریجوایٹ اور مولوی فاضل بھی ہو سکتے ہیں جو اس سال امتحان دینے والے ہوں۔بہر حال جو بچے کھچے مولوی فاضل