خطبات محمود (جلد 27) — Page 185
*1946 185 خطبات محمود کہ جس جس ملک سے مبلغین کا مطالبہ ہو گا ہم اس بخیل امیر کی طرح انہیں یہی کہہ سکیں گے کہ ابھی ہم اپنی جماعت کے دوستوں کو تیار کر رہے ہیں اور ان کے دلوں میں ایمان پیدا کر رہے ہیں، جس دن ان کے دلوں میں ایمان پیدا ہو گیا اور انہوں نے ہماری تحریک پر لبیک کہا ہم تمہاری ضروریات کو پورا کرنے کا انتظام شروع کر دیں گے۔کیا وہ ہمیں یہ جواب نہیں دیں گے کہ اگر تم ابھی اپنی جماعت میں ایمان ہی پیدا کر رہے ہو تو ہم نے کیوں بیوقوفی کی کہ تمہارے پاس آئے ؟ ہم نے تو سمجھا تھا کہ تمہارے پاس ایمان ہے۔ایسی صورت میں دنیا ہمارے ان فقرات کا وہی جواب دے گی جو اس فقیر نے امیر کو دیا تھا۔جب امیر نے اپنے نوکروں کے بڑے بڑے نام لے کر کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں۔تو وہ فقیر کہنے لگا اے خدا! تُو جبرائیل سے کہہ اور اے جبرائیل! تو اسرافیل سے کہہ اور آے اسرافیل ! تُو میکائیل سے کہہ اور اے میکائیل! تو عزرائیل سے کہہ ، وہ اس بخیل امیر کی جان نکال لے۔ہم کو بھی دنیا کی طرف سے ایسا ہی جواب ملے گا اور ہم شرمندہ ہوں گے کہ ہم نے ان کے مطالبہ کو پورا نہ کیا۔پس ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہئے تاجب بھی غیر ممالک کی طرف سے کوئی مطالبہ آئے ہم فوراً اس مطالبہ کو پورا کر سکیں۔یادرکھیں ! مو من جماعت وہ ہوا کرتی ہے جس کے سپاہی ہر وقت تیار کھڑے رہتے ہیں۔صرف دروازہ کھلنے کی دیر ہوتی ہے۔دروازہ کھلتا ہے تو وہ اندر پہنچ جاتے ہیں۔مگر ہماری حالت یہ ہے کہ دروازے کھل رہے ہیں اور ہم سپاہیوں کو بھرتی کرنے کی فکر میں اِدھر اُدھر پھر رہے ہیں۔میں جماعت کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایسے نازک موقع پر مومنوں کو غداری سے کام نہیں لینا چاہئے۔آج ہر شخص کو چاہئے کو وہ آگے بڑھے اور اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دے۔مگر چونکہ ہر شخص پہلے دن ہی اسلام کی خدمت نہیں کر سکتا بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ اسے کچھ مدت تک تعلیم دلائی جائے اس لئے ہم پہلے کچھ عرصہ تک انہیں دینی تعلیم دلائیں گے اور پھر اصل کام پر مقرر کریں گے۔بہر حال ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جو میٹرک پاس ہوں یا مڈل پاس دین کی خدمت کے لئے ہمارے سامنے پیش کریں۔ان میں سے بعض کو مدرسہ احمدیہ میں اور بعض کو جامعہ احمدیہ کی سپیشل کلاس میں