خطبات محمود (جلد 27) — Page 183
*1946 183 خطبات محمود اطلاع ہے کہ چار نہیں چھ سات کے قریب طالب علم احمدی ہو چکے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک عظیم الشان رو احمدیت کی تائید میں چل رہی ہے۔از ہر وہ یونیورسٹی ہے جہاں تعلیم حاصل کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں کوئی شخص ان کو سکھانے والا نہیں ہو سکتا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے سال سے ایک عجیب تغیر پید اہو رہا ہے۔گزشتہ سال ایک شخص نے ا بیعت کی تھی اور اس سال چار طلباء نے بیعت کی ہے بلکہ انگریز نو مسلم کی روایت کے مطابق چھ سات طلباء احمدی ہو چکے ہیں۔ممکن ہے اصل حقیقت یہ ہو کہ چارنے بیعت کی ہو اور دو تین بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔بہر حال یہ بڑھتی ہوئی رفتار بتا رہی ہے کہ علم کا وہ منبع جو دنیا میں چوٹی کی حیثیت رکھتا ہے اس کے طلباء میں بھی یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ اگر ہمیں اپنی روح کی تسکین کی ضرورت ہے۔اگر ہم نے دین کا علم صحیح طور پر حاصل کرنا ہے اور اگر ہمارا مقصد خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا کا حصول ہے تو یہ مقصد احمدیت کے سوا اور کہیں حاصل نہیں ہو سکتا۔یہ روجو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں پیدا کی جارہی ہے اور جس کے نتیجہ میں لوگوں کی توجہ ہماری طرف پھر رہی ہے اس کی وجہ سے ہماری ذمہ داریوں میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم آنے والے حالات کے لئے اپنے آپ کو پوری طرح تیار کریں اور اپنے پاس علماء کی ایسی جماعت تیار رکھیں جو ضرورت کے وقت ہم ان کی طرف روانہ کر سکیں۔آخر یہ لازمی بات ہے کہ جب یہ آواز اور زیادہ ممالک میں پھیلے گی۔جب ازہر کے طلباء باہر نکلیں گے اور وہ لوگوں کو بتائیں گے کہ ہم احمدی ہیں تو لوگوں کی پیاس اور زیادہ بڑھنی شروع ہو جائے گی اور ان میں گرید اور جستجو کا مادہ پہلے سے زیادہ ترقی کر جائے گا۔وہ جو پہلے احمدیت کو تنفر کی نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے اب محبت اور پیار سے دیکھنے لگ جائیں گے اور ان کے دلوں میں یہ احساس پید ا ہو نا شروع ہو گا کہ آؤ ہم بھی دیکھیں احمدیت کیا چیز ہے۔پھر جیسا کہ ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت چلی آتی ہے یہ پیج انشاء اللہ ترقی کرے گا اور زیادہ سے زیادہ بڑھتا چلا جائے گا۔آج اگر چار یا سات از ہر کے تعلیم یافتہ آدمی احمدی ہیں تو کل یہ تعداد دس تک پہنچ جائے گی ؟ پھر دس سے ہیں تک پہنچ جائے گی۔پھر میں سے پچیس تک پہنچ جائے گی اور پھر پچاس سے سینکڑوں تک پہنچ جائے گی؟ اور اتنی بڑی تعداد میں ازہر کے تعلیم یافتہ