خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 179

*1946 179 خطبات محمود دشمنی میں کوئی کمی نہیں آئی۔جو وہ اسلام سے رکھتے ہیں تو انہوں نے اپنے ماں باپ کی شکلیں تک دیکھنا گوارا نہ کیا۔وہ گئے اور انہوں نے اسلام کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔پس یہ تحریک صرف بڑوں کے لئے نہیں بچے بھی اس تحریک کے مخاطب ہیں۔اگر ماں باپ اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کرنے کو تیار نہیں اور بچوں کے دلوں میں ذاتی طور پر یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قربان کر دیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ اے ہمارے باپ! یا اے ہماری ماں! آپ ہمیں دین کی تعلیم کے لئے آزاد کر دیں۔ہمیں دنیوی کاموں پر لگانے کا ارادہ آپ ترک کر دیں اور دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیں۔اور اگر بچوں میں یہ تحریک پیدا نہ ہو تو ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ خود اپنے بچوں پر زور ڈالیں اور انہیں کہیں کہ دنیوی تعلیم کو چھوڑو اور خدا کے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرو۔کیا پتہ کہ تم اپنی تعلیم کے مکمل ہونے تک زندہ بھی رہتے ہو یا نہیں مگر یہ وہ تعلیم ہے کہ اگر اس تعلیم کے حصول کے دوران میں بھی تم مر گئے تو تم مجاہد کہلاؤ گے۔ایک شخص جو مدرسہ ہائی یا تعلیم الاسلام کالج میں پڑھتا ہے بغیر اس نیت اور ارادہ کے کہ وہ اس تعلیم کے نتیجہ میں دین کی خدمت کرے گا وہ اگر مر جاتا ہے پیشتر اس کے کہ اپنی تعلیم کو مکمل کرے تو وہ ایک ایسا بیج ہے جو ضائع گیا۔مگر وہ جو دین کی خدمت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس نیت سے تعلیم حاصل کر رہا ہے وہ اگر تعلیم کے دوران میں ہی مر جاتا ہے تو وہ ایسا بیچ نہیں جو ضائع چلا گیا بلکہ ایک گٹھلی ہے جو یہاں سے نکالی گئی اور اگلے جہان میں بودی گئی۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کے متعلق الہام ہوا کہ کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا۔3 جب دنیا نے کابل کی سر زمین میں ان کی زندگی کا پودا کاٹ کر پھینک دیا تو اللہ تعالیٰ ان کی روح کو لے کر اپنی جنت میں لے گیا اور اس نے قادیان کے باغ جنت میں ان کو داخل کر دیا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔بڑے بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور چھوٹے بھی۔اگر ماں باپ اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کرنے کو تیار نہ ہوں تو بچوں کو چاہئے کہ وہ ان سے روٹھ کر بیٹھ جائیں