خطبات محمود (جلد 27) — Page 178
خطبات محمود تو بچہ 178 *1946 اُس وقت گیارہ سال تھی۔انہوں نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! آپ نے ان کو پہلے کھانا کھلا دیا اور تقریر بعد میں کی۔اگر آپ پہلے تقریر کرتے اور انہیں کھانا بعد میں کھلاتے تو وہ کھانے کے انتظار میں ضرور بیٹھے رہتے اور آپ کی باتیں بھی سن لیتے۔رسول کریم صلی الی ایم نے فرمایا یہ ہے پہ مگر اس کی بات معقول ہے۔چنانچہ آپ نے ان کی پھر دعوت کی۔جب وہ جمع ہو گئے تو آپ نے کھانا تقسیم کرنے سے پہلے ان کو اسلام کا پیغام پہنچانا شروع کر دیا۔روٹی کی خاطر وہ مجبوراً بیٹھے رہے اور انہیں آپ کی باتیں سننی پڑیں۔آپ نے بڑے زور سے تقریر کرنے کے بعد فرمایا۔دیکھو! اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وقت بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی کے لئے ایک عظیم الشان دروازہ کھولا گیا ہے۔اب تمہارے لئے موقع ہے کہ تم آگے بڑھو اور خدا تعالیٰ کی رضا کے اعلیٰ مدارج حاصل کرو۔آج باقی ساری دنیا سے زیادہ تمہارے لئے ترقی کے دروازے کھلے ہیں اور خدا نے تمہیں اپنے فضل سے ایک بہت بڑا قیمتی موقع عطا فرمایا ہے۔اب تمہارا فرض ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ اور ترقی کے سامانوں سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو۔پھر آپ نے فرمایا۔میں اللہ تعالیٰ کا پیغام تم کو پہنچا چکا ہوں۔کیا تم میں سے کوئی سعید روح ہے۔جو آپ آگے بڑھے اور اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہے؟ وہ لوگ جو اپنے دلوں میں یہی سوچ رہے تھے کہ کھانا کب تقسیم ہوتا ہے، بلاوجہ ہمارا وقت کیوں ضائع کیا جارہا ہے وہ اس بات کا کیا جواب دے سکتے تھے۔وہ خاموش رہے۔رسول کریم صلی ال کلیم نے ایک دو دفعہ پھر پوچھا مگر جب کسی نے جواب نہ دیا تو حضرت علی جو اُس وقت گیارہ برس کے بچے تھے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہايَا رَسُولَ اللہ ! میں حاضر ہوں۔تو حقیقت یہ ہے کہ ایمان بچے اور بڑے میں کوئی فرق نہیں کیا کرتا۔بہت سے نوجوان صحابہ میں ایسے پائے جاتے ہیں جن کے ماں باپ ان کے شدید ترین مخالف تھے۔وہ بارہ بارہ، چودہ چودہ اور پندرہ پندرہ سالوں کی عمر کے تھے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا۔اور جب انہوں نے دیکھا کہ ہمارے ماں باپ ہمیں اس مذہب میں شامل ہونے سے روک رہے ہیں تو انہوں نے اپنی ماؤں کو چھوڑ دیا، اپنے باپوں کو چھوڑ دیا اور اپنے وطنوں کو چھوڑ دیا اور غریب الوطنی کی زندگی بسر کی۔اس کے بعد بھی جب انہوں نے دیکھا کہ ابھی تک ہمارے ماں باپ کی اس