خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 116

*1946 116 خطبات محمود لیکچر دے گا تو سننے والے زیادہ سندھی ہوں گے نہ کہ پنجابی۔اسی طرح ہم جب کوئی لیکچر وغیر دیں تو یہ بات ضروری ہے کہ ہمارے لیکچر میں بھی سندھی زیادہ ہوں۔اور یہ تبھی ہو سکتا ہے کہ ہم ان کو اپنے قریب کرنے کی کوشش کریں۔ان کے نہ سننے کی وجہ یہی ہے کہ ان کو احمدیت سے واقفیت نہیں ہے۔اگر ان کو یہ معلوم ہو جائے کہ اسلام کی خستہ حالی کا علاج اب صرف احمدیت ہی ہے اور یہ تمام بلائیں جو روز بروز مسلمانوں پر وارد ہو رہی ہیں ان کا واحد علاج احمدیت ہی ہے تو وہ یقیناً احمدیت کی باتیں بڑے شوق سے سنیں گے۔سندھ میں پچاسی فیصدی آبادی مسلمانوں کی ہے لیکن حکومت میں زیادہ ہاتھ ہندوؤں کا ہے۔مسلمانوں میں سے سات مسلمان ہندوؤں کے ساتھ جاملے ہیں اور مسلمان حکومت ایک تمسخر بنی ہوئی ہے۔اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد قائم نہیں رہا ہے اور اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے غیروں کے ہاتھوں میں ایک کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔یہی حال پنجاب میں ہے۔مسلم لیگ کے پچھتر نمائندے تھے اور اب تو اسی ہو گئے ہیں لیکن باوجود استی نمائندے ہونے کے مسلمانوں کو کچھ مل نہیں رہا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے سات آٹھ نما ئندے ہندوؤں کے ساتھ جاملے اور ان سے مل کر گورنمنٹ بنالی۔یہ تمام حالات اس وجہ سے پیدا ہو گئے ہیں کہ مسلمانوں میں اتحاد نہیں رہا اور اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے طاقت اور جتھا سے محروم ہو گئے ہیں۔اگر مسلمانوں کی طاقت اور جتھا ہو تاتو کیا مجال تھی کہ کوئی شخص ان کی بات کو ر ڈ کرتا۔مسلمانوں میں اس وقت یہ بہت بڑا مرض پیدا ہو گیا ہے کہ ہر شخص اپنے ذاتی تعلقات کو قومی مفاد سے مقدم رکھتا ہے اور اس بات کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ اس کے اس فعل سے اسلام اور مسلمانوں پر کیا کیا مصیبت آتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آج اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کو نہایت ہی حقیر چیزوں کے بدلے بیچا جارہا ہے۔کوئی شخص چند روپوں کی خاطر اللہ تعالیٰ کو بیچ رہا ہے ، کوئی شخص آٹے کی خاطر اللہ تعالیٰ کو بیچ رہا ہے، کوئی شخص ایک لحاف کی خاطر خدا کو بیچ رہا ہے، کوئی شخص ایک چادر کی خاطر اللہ تعالیٰ کو بیچ رہا ہے، کوئی شخص چاولوں کی ایک مٹھی کے پیچھے خدا کو بیچ رہا ہے اور کوئی شخص زمین کے لئے خدا کو بیچ رہا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے غضب سے کوئی خائف نہیں ہوتا بلکہ اس