خطبات محمود (جلد 27) — Page 111
*1946 111 خطبات محمود اگر فی صفحہ سولہ سطریں سمجھی جائیں اور سورہ بقرہ تقریباً تیس چالیس صفحوں میں ہے۔اگر چالیس صفحے فرض کئے جائیں تو 640 سطریں ہو گئیں لیکن جو شور ابتدا میں ایک سطر سے پڑا تھا وہ چھ سو چالیس سطروں سے نہیں پڑا۔اسی طرح جب مسائل کثرت کے ساتھ سامنے آنے شروع ہو جاتے ہیں تو کمزور طبیعتیں ستی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں کہ کس کو یاد کریں اور کس کو نہ کریں۔یہ ان کی طبیعت کی کمزوری کی علامت ہوتی ہے۔ان کو چاہئے کہ وہ جس قدر یاد کر سکیں کر لیں اور جو نہ یاد ہو اسے چھوڑ دیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا 3 یعنی اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔پس جتنی طاقت ہو اتنا ہی یاد کر لیا جائے۔مگر اس کی بجائے طبائع میں غفلت پیدا ہو جاتی ہے اور لوگ بالکل چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں کرتے۔عربی میں ایک مثل ہے ما لا يُدْرَكُ كُلُّهُ لَا يُتْرَكُ كله که جو چیز ساری حاصل نہیں کی جاسکتی وہ ساری چھوڑی بھی نہیں جاسکتی۔میں دیکھتا ہوں کہ اخباروں، رسالوں اور کتابوں کی کثرت کی وجہ سے لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ہم کیا کچھ پڑھیں ہم سے کچھ بھی نہیں پڑھا جاتا اور جو اخبار خریدتے ہیں وہ اسے سنبھال کر نہیں رکھتے۔میں نے تو اپنے اخبار سنبھال کر رکھنے کی دفتر کو سخت تاکید کی ہوئی ہے تاکہ کم از کم دفتر میں تین چار فائل تو ہوں تا کہ ہماری اولاد باری باری ایک دوسرے سے مانگ کر پڑھ سکے۔آج لوگوں کے نزدیک ”الفضل“ کوئی قیمتی چیز نہیں۔مگر وہ دن آ رہے ہیں اور وہ زمانہ آنے والا ہے جب الفضل کی ایک جلد کی قیمت کئی ہزار روپیہ ہو گی۔لیکن کو تہ بین نگاہوں سے یہ بات ابھی پوشیدہ ہے۔رسول کریم صلی الی ایم کی مجلس میں جو باتیں ہوتی تھیں وہ اس زمانہ کے لوگوں کے نزدیک اتنی اہم نہ تھیں جتنی اہمیت ان کی بعد میں ہوئی۔بڑے بڑے بادشاہ ایک صحابی یا تابعی یا تبع تابعی کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھتے اور بڑے ادب کے ساتھ پوچھتے کیا آپ نے رسول کریم صلی الی تم کو دیکھا تھا؟ یا کیا آپ نے فلاں دیکھنے والے کو دیکھا تھا۔یا اس کے دیکھنے والے کو دیکھا تھا؟ آپ کا قد کیسا تھا؟ آپ کا جسم کیسا تھا؟ آپ کس طرح چلتے تھے ؟ ایک زمانہ وہ تھا کہ رسول کریم صلی می کنم خود اپنے آپ کو دکھایا کرتے لیکن لوگ آپ کی طرف ها