خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 77

*1946 77 خطبات محمود ایک ہندوستانی ہمسائے کا ہم پر زیادہ حق ہے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہم اس بات پر تو خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنے مبلغ دنیا کے کناروں تک پہنچا دیئے مگر اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ ہم اپنے ہمسائے کو جو جہنم میں گر رہا ہے وہاں سے ہٹا کر جنت کے دروازہ پر کھڑا کر دیں؟ یقیناً ہمارے دل میں اگر اپنے ہمسائے کی ہمدردی نہیں یقیناً اگر ہمارے دل میں اپنے ملک کے لوگوں کی ہمدردی نہیں تو ہماری بیرونی تبلیغ ایک تمسخر کہلائے گی، ایک ریاء کہلائے گی، اور کوئی شخص بھی یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ جو شخص اپنے ہمسائے کو گمراہی میں گرتے دیکھتا ہے لیکن اس کے لئے کوشش نہیں کرتا اور انگلستان مبلغ بھجوا رہا ہے وہ مخلص ہے۔ہم اس وقت مخلص کہلانے کے مستحق ہوں گے جب ہم مبلغین کو باہر بھیجنے کے ساتھ اپنے ہمسائیوں کی خرابی پر بھی نظر رکھیں اور جو مبلغ ہم نے باہر بھیجے ہیں۔اس وقت تک ہم ان کے کام میں بھی حصہ دار نہیں ہوں گے جب تک ہم اپنا وقت تبلیغ پر خرچ نہ کریں۔اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہر ایک سمجھنے والا یہی سمجھے گا کہ دنیا میں نام پیدا کرنے کے لئے انہوں نے بیرونی ممالک کی تبلیغ میں حصہ لیا ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اگر آٹھ میل کے فاصلہ پر آگ لگے تو تم فوراً اس طرف آدمی دوڑاؤ اور اس میں حصہ لو لیکن جب تمہارے ہمسایہ کے گھر میں آگ لگے تو تم بیٹھے رہو۔اور پھر کہو کہ ہم نے محض انسانی بھلائی اور نیکی اور ہمدردی کی غرض سے آٹھ میل دور آدمی بھیجے تھے۔اگر تم نے بھلائی اور نیکی کی غرض سے وہاں آدمی بھیجے تھے تو پھر تمہیں یہاں کیا ہو گیا تھا۔اگر تمہارے اندر تقویٰ ہوتا تو تم ضرور یہاں بھی آدمی بھیجتے۔لیکن تمہارا صرف وہاں آدمی بھیجنا اور یہاں نہ بھیجنا بتاتا ہے کہ تم وہاں کسی خاص غرض کے لئے گئے تھے۔پس اپنے ملک کے لوگوں تک تبلیغ پہنچانا احمدیت کے اہم ترین فرائض میں سے ہے جسے نظر انداز کر کے ہم اپنے تمام کاموں کو شبہ میں ڈال دیتے ہیں۔ہماری نماز بھی مشتبہ ہو جاتی ہے، ہماری زکوۃ بھی مشتبہ ہو جاتی ہے، ہماری تبلیغ بھی مشتبہ ہو جاتی ہے اور ہمارے چندے بھی مشتبہ ہو جاتے ہیں۔میں متواتر مختلف طریقوں سے جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلا تا رہا ہوں۔مگر مجھے افسوس ہے کہ اب تک جماعت نے پورے طور پر اس کام کی طرف توجہ نہیں کی۔نہ۔