خطبات محمود (جلد 27) — Page 78
*1946 78 خطبات محمود قادیان کے لوگوں نے اور نہ باہر کے لوگوں نے۔قادیان کے لوگوں کے لئے یہ مزید فکر کی بات ہے کیونکہ قادیان کے لوگوں کو ایک ایسے ماحول میں رہنے کا موقع ملا ہوا ہے کہ آہستہ آہستہ ان کی تبلیغ کی روح کچلی جارہی ہے اور ان کی نسلوں میں بھی نمایاں کمزوری نظر آتی ہے۔بیرونی لوگوں میں اکثر ایسے ہوتے ہیں جن کے رشتہ دار غیر احمدی ہوتے ہیں۔جب کسی کے والدین مرتے ہیں تو ان کی اولادوں میں سے جو کمزور ایمان والے ہوتے ہیں وہ اپنے رشتہ داروں کے اثر کے نیچے غیر احمدی ہو جاتے ہیں اور جو مضبوط ایمان والے ہوتے ہیں وہ احمدیت پر قائم رہتے ہیں مگر بہر حال وہاں صرف دو ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں یا مرتد ہونے والے لوگ ہوتے ہیں یا نہایت ہی مخلص اور جو شیلے ہوتے ہیں۔تیسری قسم نہیں ہوتی۔مگر قادیان میں ایک تیسری قسم بھی پیدا ہو گئی ہے جو زیادہ خطر ناک ہے۔قادیان میں بعض لوگوں کی نسلیں احمدیت سے بالکل مستغنی نظر آتی ہیں۔وہ مرتد تو نہیں ہوتیں، نعرے لگانے کے لئے ساتھ ہوتی ہیں مگر دین کے لئے جو جوش اور ولولہ چاہئے اور جس کے بغیر روحانیت زندہ نہیں رہ سکتی ان میں نہیں پایا جاتا۔اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ دشمن کے نرغہ میں گھرے ہوئے نہیں بلکہ دوستوں میں رہتے ہیں اور امن میں رہتے ہیں۔امن میں رہنے کی وجہ سے جو دین کی ضروریات ہیں ان کو محسوس نہیں کرتے اور دشمن کے نرغہ میں ہونے کی وجہ سے جو گرمی اور جوش پیدا ہوتا ہے وہ ان میں نہیں ہے۔پس قادیان کے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ایسے راستے سوچیں کہ جن پر چل کر ان کی زندگی بے کار نہ ہو اور روحانی لحاظ سے وہ مر دار نہ ہوں۔صرف میر اخطبہ اس کے لئے کافی نہیں۔مقامی انجمن کو چاہئے کہ وہ جماعت میں بیداری پیدا کرے۔وہ مختلف محلوں میں جلسے کرے اور لوگوں سے طریق پوچھے کہ وہ کس طرح اس دیوار کو توڑ سکتے ہیں جو ہمارے ارد گرد حائل ہو گئی ہے۔جس طرح ہر بدی اپنے ساتھ نیکی رکھتی ہے اسی طرح ہر نیکی بھی اپنے ساتھ بدی رکھتی ہے۔جب بیماری کے جرمز (Germs) پیدا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بیماری کا مقابلہ کرنے کے لئے جسم میں ہی سامان پیدا کر دیتا ہے اور بیماری کے ساتھ صحت کے سامان بھی پید اہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جب صحت ہوتی ہے تو اس کے مقابلہ میں بیماری کے سامان بھی پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پس ہر نعمت