خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 71

*1946 71 خطبات محمود نقصان پہنچ رہا ہو تو اس نقصان کو دور کرنے کی کوشش کرنے کے لئے وہاں ہمارا نمائندہ ہونا ضروری ہے لیکن اصل کام یہ ہے کہ ہمارا نمائندہ ایسے رنگ میں کام کرے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں اور سکھوں کا آپس میں سمجھوتا ہو جائے اور یہ قومیں مل جل کر کام کریں اور صوبہ کی ترقی میں ممد و معاون ہوں اور یہ صوبہ ایسی مثال قائم کرے کہ سارے ہندوستان کے لوگوں کے اندر تعاون اور محبت کی روح پیدا ہو جائے تاکہ ہمارا ملک جو اپنی بد بختی سے غلامی کے جوئے کے نیچے دبا چلا جارہا ہے۔خدا تعالیٰ اس کے افراد کو بھی آزادی کا سانس لینے کی توفیق عطا فرمائے۔جہاں تک ہو سکے گا ہم بھی اپنے نمائندہ کو اِس بارہ میں ہدایات دیتے رہیں گے۔لیکن اصل بات یہی ہے کہ جو کام کرنے والا ہوتا ہے زیادہ تر اس کی اپنی ہی روح کام کرتی ہے۔ورنہ سب قسم کی ہدایات دینے کے بعد بھی اگر انسان کے اندر ذاتی جوش نہ ہو تو ساری ہدایات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔جیسے مثل مشہور ہے کہ ”پر نالہ اوتھے دا اوتھے“ پس ہمیں یہ دعا کرنی چاہیئے کہ خدا تعالیٰ ہمارے پہلے نمائندہ کو جو احمدیت کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا ہے گو اب وہ مسلم لیگ کے ساتھ جماعتی ہدایت کے مطابق شامل ہو گیا ہے احمدیت کا اچھا نمونہ بننے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کو دوسروں کے لئے مثال بنائے اور اس کے ذریعہ سے ملک کے فسادات اور جھگڑے دور ہوں اور ہر قوم اپنا حق پائے۔اس کے ذریعہ سے نہ غیر قوموں کو کوئی تکلیف پہنچے اور نہ اپنوں کو۔وہ اپنے لئے بھی مفید ہو اور غیروں کے لئے بھی۔اور ایک ایسی اچھی مثال قائم کرنے والا ہو کہ پنجاب کی فضا بدل جائے اور پھر باقی ہندوستان کے صوبے بھی اس سے ہدایت پائیں۔اگر وہ اس میں کامیاب ہو جائیں تو ہمارا وہ سارا وقت جو ان کے لئے جد وجہد میں صرف ہوا ( اور جو اس خیال کے ماتحت دینی کاموں میں ایک حد تک کمی کر کے صرف کیا گیا کہ اگر اس کا اچھا نتیجہ نکلا تو یہ بھی دین کی ترقی کا موجب ہو گا۔اور اخلاق اور نیکی کے پھیلانے کا ذریعہ ہو گا) نیک نتائج پیدا کرنے والا ہو گا۔اور ہمارے دلوں میں اس وقت کے صرف کرنے پر ملامت پیدا نہیں ہو گی۔لیکن اگر ہمارا ممبر بھی ایک عام ممبر ہی ہوا، اگر ہمارا ممبر بھی اسی قسم کے جھگڑوں میں پڑا رہا جس میں دوسرے لوگ مبتلا ہیں اور اگر وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوا جو ہمارا اصل مقصد ہے تو ہمارے دل ہمیں ملامت کریں گے