خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 672 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 672

*1946 672 خطبات محمود اب تیس روپے ہزار ہے۔تو یہ پہلے ہی قیمت چار گنے بڑھ گئی ہے۔مگر یہاں کے بھٹہ والے اس کو ڈبل کر کے یعنی پچاس روپے ہزار بیچتے ہیں۔اس حالت میں ہم لوگ مکان کس طرح بنائیں۔ان کا یہ اعتراض وزنی ہے۔اس حالت میں ہم لوگوں کو مجبور نہیں کر سکتے کہ تم ضرور آٹھ گنا قیمت خرچ کر کے قادیان میں مکان بناؤ اور قادیان کی حفاظت کے سامان پید ا کر و۔اس قسم کے تاجر گویالوگوں کو قادیان میں مکان بنانے سے روکنے والے ہیں اور قادیان کی حفاظت کے رستہ میں دیوار حائل کرنے والے ہیں۔اس قسم کے تاجروں کی مثال اس کشمیری جیسی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ جیٹھ ہاڑھ کے مہینے میں دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا۔سر سے پاؤں تک پسینہ بہہ رہا تھا اور گرمی کے مارے ہانپ رہا تھا۔کوئی شخص اس رستہ سے گزرا اس نے کہلہ میاں دھوپ میں کیوں بیٹھے ہو؟ یہ پاس ہی دیوار کا سایہ ہے اُس میں جا کر بیٹھ جاؤ۔تو وہ کشمیری ہاتھ لمبا کر کے کہنے لگا۔اگر میں سایہ میں بیٹھ جاؤں تو آپ مجھے کیا دیں گے ؟ یہی حالت ان حریص تاجروں کی ہے۔اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اگر فساد وغیرہ ہو ا تو سب سے پہلے مالدار ہی لوٹے جائیں گے اور نقصان بھی زیادہ ان کا ہی ہو گا۔غریب جس کے پاس اپنے کھانے پینے کو کچھ نہیں یا مشکل سے اپنا گزارہ کرتا ہے اُس کے پاس سے لوٹا کیا جائے گا۔اگر خدانخواستہ فساد وغیرہ ہوں بھی تو اسے اپنے مال کا فکر نہیں۔کہتے ہیں کسی میراثی کے گھر میں چور آیا۔اُس نے کمرے میں گھس کر کمرے کی تلاشی لینی شروع کی۔کبھی وہ سوٹی کے ساتھ فرش کو ٹھکور تا اور کبھی انگلیوں کے ساتھ دیواروں کو بجاتا کہ کہیں خلا معلوم ہو جائے اور میں اُس میں سے دبا ہوا خزانہ نکال لوں۔اس حالت میں میراثی کی آنکھ کھل گئی۔وہ چور کی حرکات کو دیکھ کر آہستہ آہستہ ہنستا رہا۔جب چور چاروں طرف تلاش کرتے کرتے تھک گیا تو اس کی نظر ایک جگہ روشنی پر پڑی جو کہ روشندان میں سے زمین پر پڑ رہی تھی۔وہ گھبرایا ہوا تھا۔وہ چاہتا تھا کہ روپیہ نہیں تو کوئی چیز ہی مل جائے۔اُسے روشنی جو نظر آئی۔اُس نے سمجھا کہ یہ سفید سفید آٹا ہے۔اُس نے جلدی سے آٹے کے اٹھانے کے لئے ہاتھ مارے لیکن دونوں ہاتھ مل گئے۔میراثی یہ حالت دیکھ کر اپنی جنسی کو ضبط نہ کر سکا اور زور سے قہقہہ مار کر کہنے لگا۔” جمان! ایتھے سانوں دن نوں کجھ نہیں لبدا۔تہانوں راتیں کی لبھنا۔“ یعنی جناب! ہمیں تو یہاں دن کو کچھ نہیں ملتا آپ کو رات کے وقت یہاں کیا