خطبات محمود (جلد 27) — Page 671
*1946 671 خطبات محمود جیسی کہ پہلے تھیں۔میرے پاس متواتر شکایات پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض احمدی دکاندار بلیک مارکیٹ کرتے ہیں اور وہ کنٹرول کی چیزوں کو چوری چوری زیادہ قیمتوں پر بیچتے ہیں۔میں اس کے متعلق پہلے بھی توجہ دلا چکا ہوں کہ یہ نہایت ہی مکروہ اور ظالمانہ فعل ہے۔جماعت کے دکانداروں کو ان باتوں سے بچنا چاہئے لیکن باوجود میرے سمجھانے کے پھر بھی بعض کے متعلق یہ رپورٹیں موصول ہوتی رہتی ہیں۔میرے نزدیک اس کی ذمہ داری نظارت امور عامہ پر بھی ہے۔وہ کیوں اس قسم کے لوگوں کا پتہ نہیں لگاتے اور ان کو سزائیں نہیں دیتے۔اور کتنے ذلیل ہیں وہ لوگ جو اس طریق پر روپیہ کماتے ہیں۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھو کہ کوئی جماعت روپے سے زندہ نہیں رہ سکتی بلکہ جماعت ایمان سے زندہ رہتی ہے۔اگر روپیہ ہی اصل چیز ہے تو یہودیوں، عیسائیوں، پارسیوں اور ہندوؤں کے پاس تم سے بہت زیادہ روپیہ ہے۔کیوں خدا تعالیٰ نے اُن میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو مبعوث نہ فرمایا؟ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو غرباء کی جماعت میں سے مبعوث فرمانا بتا تا ہے کہ ایمان کا روپے سے کوئی تعلق نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ روپیہ بطور انعام کے دیتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندوں کی ضروریات کو پورا کرے۔ان کے ذریعہ غرباء کی امداد کرے اور کبھی روپیہ بطور آزمائش کے دیا جاتا ہے۔اگر تو روپیہ کے آنے سے انسان کا ایمان سلامت رہا تو وہ روپیہ اُس کے لئے بطور انعام کے ہے اور وہ روپیہ اُس شخص کے لئے باعث برکت ہے۔لیکن اگر وہ روپیہ انسان کے ایمان کو باطل کر دیتا ہے اور وہ روپیہ کے آجانے سے بے ایمانوں جیسی چالا کیاں کرنے لگ جاتا ہے اور چوروں اور ٹھگوں کی طرح لوگوں کو لوٹتا ہے تو وہ روپیہ اُس شخص کے لئے عذاب کا باعث ہے۔میرے پاس کل بعض دوستوں نے شکایت کی کہ ایک طرف آپ یہ کہتے ہیں کہ مکان بناؤ۔نہیں تو ہم زمین واپس لے لیں گے۔دوسری طرف اینٹوں کی یہ حالت ہے کہ اینٹوں والوں کے پاس جب ہم جاتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اینٹیں تو سب کی سب بک چکی ہیں۔اور پھر انہی اینٹوں کو بلیک مارکیٹ کر کے تیس روپے کی بجائے پچاس روپے میں بیچتے ہیں۔پہلے ہی جنگ کی وجہ سے اینٹوں کی قیمت چار گنے زیادہ ہے۔کیونکہ جنگ سے پہلے چھ سات روپے ہزار اینٹ بکتی تھی اور